تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 58
معنے انکار کرنے والے کے نہیں بلکہ جاہل اورناواقف کے ہیں۔اوریہ بتایاہے کہ بعث بعد الموت پر ایمان نہ ہونے کے سبب سے چونکہ سنجید گی سے غور کرنے کا احساس نہیں اس لئے اس عادت کی وجہ سے دلوں سے سمجھ کامادہ جاتارہا ہے اوران کو حس ہی نہیں ہوتی کہ ہماراایک عقیدہ دوسرے عقید ہ کے خلاف ہے۔دوسرا نتیجہ بعث بعد الموت کے انکا ر کا یہ بتایاکہ ان میں تکبر پیداہوگیا ہے کیونکہ جو شخص جزاسزاکا مومن نہ ہو و ہ نڈر ہو جاتا ہے اورجو نڈر ہوجائے وہ سچائی کااقرار کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ کے الفاظ سے دو قسم کے مشرکوں کا ذکر غرض قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ اور هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَکے الفاظ سے درحقیقت دو قسم کے مشرکوں کا ذکر فرمایا ہے۔ایک وہ ہیں جن سے سنجیدگی سے غور کرنے کامادہ جاتا رہا ہے اورجہالت میں مبتلاہوگئے ہیں۔پس بوجہ دل کے بیمار ہوجانے کے و ہ سچائی کے سمجھنے سے قاصر رہ گئے ہیں۔اور دوسرے وہ لوگ جو دلائل سن کر ایک خداکے عقیدہ کو دل میں توصحیح سمجھتے ہیں لیکن تکبر اورضد کی وجہ سے اس کا اقرار نہیں کرتے۔کیونکہ جزاءسزاکے انکار کی وجہ سے و ہ بے خوف ہیں۔اورسچائی کے انکار میں کوئی نقصان نہیں دیکھتے۔لَا جَرَمَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَ مَا يُعْلِنُوْنَ١ؕ اِنَّهٗ لَا یہ یقینی بات ہے کہ جوکچھ وہ پوشیدہ (طورپر)کرتے ہیں (اسے بھی )اورجوکچھ وہ ظاہر (طورپر )کرتے ہیں (اسے يُحِبُّ الْمُسْتَكْبِرِيْنَ۰۰۲۴ بھی )اللہ (تعالیٰ)جانتاہے۔وہ تکبر کرنے والوں کو ہرگزپسند نہیں کرتا۔حلّ لُغَات۔لَاجَرَمَ کی تشریح کے لئے دیکھو ہود آیت ۲۳۔جَرَمَ یَجْرِمُ جَرْمًا قَطَعَ کاٹ دیا۔لَاجَرَمَ قَالَ اَلْفَرَّاءُ ھِیَ کَلِمَۃٌ کَانَتْ فِی الْاَصْلِ بِمَنْزِلَۃِ لَابُدَّ وَلَا مَحَالَۃ فَـجَـرَتْ عَلٰی ذٰلِکَ وَکَثُرَتْ حَتّٰی تَحَوَّلَتْ اِلٰی مَعْنَی الْقَسَمِ۔وَصَارَتْ بِمَنْزِلَۃِ حَقًّا وَھُوَمَأْخُوْذٌ مِنَ الْقَطْعِ۔فرّاء کا قول ہے کہ لَاجَرَمَ پہلے لَا بُدَّ یعنی ضرور کے معنی میں استعمال ہوا کرتا تھا پھر کثرت استعمال سے ہوتے ہوتے اس کے معنی قسم کے بن گئے اور حقاً یعنی یقیناً کے معنی دینے لگا ورنہ اس کے اصل معنی یہی ہیں کہ اسے کوئی کاٹ نہیں سکتا یعنی یہ اٹل بات ہے۔(اقرب)