تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 604
عَيْنٍ حَمِئَةٍ سے مراد بحیرہ کیسپین عَيْنٍ حَمِئَةٍ کے معنے مٹی ملے ہوئے پانی کے ہیں۔اورمراد بحیرہ اسود سے ہے۔کیونکہ مٹی سے پانی کارنگ گدلا اورسیاہی مائل ہو جاتا ہے اوراس سمندر کاپانی بوجہ عمیق گہرائی کے سیاہی مائل ہے۔مٹی ملے ہوئے کے الفاظ لفظاًبھی اس سمندر پرصادق آتے ہیں۔کیونکہ یہ سمند رسارے سمندروں سے اس امرمیںنرالاہے کہ اس میں باقی سمندروں کی نسبت نمکین پانی کم شامل ہوتاہے اوراس کے پانیوں کابڑاحصہ زمینی دریائوں کے پانی سے بنتاہے۔جوروس آرمینیا اوربلغاریہ کے ملکوں سے آکر اس میں گرتے ہیں (انسائیکلوپیڈیا برٹینکا زیر لفظ بلیک سی)پس چونکہ اکثر پانی اس کادریائو ںسے آتاہے اس میں دوسرے سمندروں کی نسبت مٹی کی آمیزش زیادہ ہے اورنمک سب سمندروں سے کم ہے۔یہ جوفرمایا کہ اس میں سورج ڈوبتاہواپایا۔اس سے مرادیہ ہے کہ چشمہ کے لفظ سے دھوکانہ کھائو۔چشمہ سے صرف یہ مراد ہے کہ اس کاپانی گہراہے اورسطح زمین کے اندرسے نکل کر بھی اس میں پانی ملتارہتاہے ورنہ چھوٹاچشمہ مراد نہیں۔بلکہ وہ اس قدر وسیع ہے کہ اس کے کنارہ پرکھڑے ہوں تو یوں معلوم ہوگا کہ گویا سورج اسی میں ڈوب رہاہے۔وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًاسے مراد وہ حکومت ہے جوایشائے کوچک کے مشرقی ساحل پر حکومت کررہی تھی اورجس نے بابل کی فتح کے بعد دوسری حکومتوں سے مل کر بلاوجہ خورس پر حملہ کردیاتھا۔اس قوم کے متعلق فرماتا ہے کہ ہم نے اسے کہا کہ خواہ اس کی شرارت کی اسے سزادوخواہ ان پر احسان کرکے اپناگروید ہ بنالو۔قَالَ اَمَّا مَنْ ظَلَمَ فَسَوْفَ نُعَذِّبُهٗ ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ اس نے کہا(ہاں میں ایسا ہی کروں گا اور)جوظلم کرے گا اسے توہم ضرورسزادیں گے پھر وہ اپنے رب کی طرف فَيُعَذِّبُهٗ عَذَابًا نُّكْرًا۰۰۸۸ لوٹایاجائے گااوروہ اسے سخت عذاب دے گا تفسیر۔یعنی خورس نے اس الہام کے جواب میںیہ عرض کی کہ میرایہ منشاء ہے کہ اگر یہ دوبارہ شرارت کریں توان کوسزادوں ورنہ نہیں۔یہ جوفرمایا ثُمَّ يُرَدُّ اِلٰى رَبِّهٖ اس سے معلوم ہوتاہے کہ خورس کا ایک ایسے مذہب سے تعلق تھا جوقیامت پر خاص