تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 603 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 603

اِنَّا مَكَّنَّا لَهٗ فِي الْاَرْضِ وَ اٰتَيْنٰهُ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ سَبَبًاۙ۰۰۸۵ ہم نے یقیناً اسے زمین میں حکومت بخشی تھی۔اورہم نے اسے ہرایک چیز (کے حصول )کاذریعہ عطا کیاتھا۔حلّ لُغَات۔مَکَّنَّا مَکَّنَّامَکَّنَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے۔اور مَکَّنَہٗ مِنَ الشَّیْءِ کے معنے ہیں جَعَلَ لَہُ عَلَیْہِ سُلْطَانًا وَّقُدْرَۃً۔اس کوکسی بات پرطاقت قدرت اورغلبہ بخشا(اقرب)پس مَکَّنَّا کے معنے ہوں گے۔ہم نے اسے حکومت و غلبہ دیاتھا۔سَبَبًا سَبَبًا مَایُتَوَصَّلُ بہٖ اِلَی غَیْرِہٖ۔کسی چیز کے حصو ل کے ذریعہ کو سبب کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔یعنی ہم نے ذوالقرنین کو دنیا میں بڑی طاقت بخشی تھی۔اورہرقسم کے سامان اسے بخشے تھے یہ اوپر ثابت کیاجاچکا ہے کہ خورس کواللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے خاص طات دی تھی۔جیساکہ بائبل اوراس کے اپنے بیانات سے ثابت کیاجاچکاہے۔دیکھونوٹ نمبر۱ فَاَتْبَعَ سَبَبًا۰۰۸۶حَتّٰۤى اِذَا بَلَغَ مَغْرِبَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تب وہ ایک راستہ پر چل پڑا۔یہاں تک کہ وہ سورج ڈوبنے کے مقام پر پہنچا تواس نے ایساپایا کہ (گویا)وہ ایک گدلے تَغْرُبُ فِيْ عَيْنٍ حَمِئَةٍ وَّ وَجَدَ عِنْدَهَا قَوْمًا١ؕ۬ قُلْنَا يٰذَا چشمے میں ڈوب رہاہےاوراس نے اس کے پاس کچھ لوگ (آباد )پائے (اس پر )ہم نے (اسے)کہا (کہ ) الْقَرْنَيْنِ اِمَّاۤ اَنْ تُعَذِّبَ وَ اِمَّاۤ اَنْ تَتَّخِذَ فِيْهِمْ حُسْنًا۰۰۸۷ اے ذوالقرنین تجھے اجازتہے کہ ان کو عذاب دے یاان کے بارہ میں حسن سلوک سے کام لے حلّ لُغَات۔حَمِئَۃٌ اَلْحَمِئَۃُ کے معنے ہیں ذَاتُ الْحَمْأَۃِ۔کیچڑ والا(اقرب)پس عَيْنٍ حَمِئَةٍ کے معنے گدلا۔کیچڑ والاچشمہ۔تفسیر۔مَغْرِبَ الشَّمْسِ سے یہ مراد نہیں کہ دنیا کے آخر ی سرے پرپہنچا۔بلکہ مراد یہ ہے کہ اپنی فتوحات کی مغربی حدتک جا پہنچااورمراد ایشاء کوچک کی شمالی اورمغر بی حد ہے۔