تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 602
دیوار بنادی تھی اورایک بڑی فوج کو لے کر ان کے ملک پر صرف چند چھوٹے چھوٹے دروازوں سے حملہ کرنا خالی از خطرہ نہ تھا۔اوردیوار کوتوڑنا اوربھی پُرخطرتھا۔پس دارانے سیدینز کازورتوڑنے کے لئے یوروپ کی طرف سے جاکر حملہ کیا۔تاکہ ایک طرف سے دیوار ان کوروک رہی ہو اوردوسری طرف سے اس کی فوجیں ان پر حملہ آورہوجائیں۔(۲)دوسراامر جس سے اس بار ہ میں قیاس کیاجاسکتا ہے یہ ہے کہ اگر درّہ دربند میں داراسے پہلے دیوار موجودنہ تھی تودارائے اول جیسے عقل مند بادشاہ کی نسبت یہ خیال نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے ملک کوننگاچھوڑ کر ہزارمیل کاچکر کاٹ کر سیدینز پر حملہ کرنے کے لئے گیا تھا۔کیونکہ اس صورت میں یہ صریح خطرہ موجود تھا کہ اس کے جانے کے بعد سیدینز بغل میں سے نکل کر اس کے ملک پرحملہ کردیتے اورنہ و ہ اپنے ملک کوہی بچاسکتا۔نہ اس کاملک اس کی ضرورت پرمزید کمک بھجواسکتا۔پس اس کااطمینان سے یورپ کی طرف سے جاکر حملہ کرنا بتاتاہے کہ دربند کی طرف سے اس سے پہلے دیوار موجود تھی اوروہ اس امر سے مطمئن تھا کہ سیدینز اس کے ملک پر دیوار کی وجہ سے اس طرف سے حملہ نہیں کرسکتے۔دربند کے پاس دیوار بنانے والا خورس ہی تھا میں سمجھتاہوں کہ اب میں چاروں علامتوں کو سوائے دیوار والے حصہ کے یقینی طورپر خورس کے حق میں ثابت کرچکاہوں۔اوردیوار والے حصہ کے متعلق بھی اس قدر ثابت کرنے میں کامیاب ہوگیا ہوں کہ جہاں تک اس زمانہ کے واقعات سے(جودرحقیقت بہت کم ہم تک پہنچے ہیں ) قیاس کیاجاسکتاہے کہ خورس ہی دربند کے پاس دیوار بنانے والاتھا۔خصوصاً جبکہ تاریخ سے ثابت ہے کہ یاجوج ماجوج خورس کے برسراقتدار آنے سے پہلے اس کے اپنے ملک پرقابض تھے اوران کے حملے فارس پر اوراس کی وسیع سلطنت پر برابر جاری تھے۔اورجبکہ ہم کو تاریخ سے یہ مزید ثبوت ملتاہے کہ دربند کی طرف سے سیدینز کے حملے خورس کے زمانہ کے بعد رک گئے تھے۔(ہسٹورینز ہسٹری آف دی ورلڈ جلد ۲ صفحہ ۵۸۹) خلاصہ یہ کہ یہ امر ایک ثابت شدہ حقیقت معلوم ہوتاہے کہ ذوالقرنین بادشاہ سے مراد قرآن کریم میں خورس بادشاہ ہی ہے اوراس امر کے ثابت کرچکنے کے بعد میں قرآن کریم کی آیات کی تفسیر الگ الگ بیان کرتاہوں۔