تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 55
حضرت مسیح ؑ کا یوم البعث کے متعلق عدم علم کا اقرار ’’لیکن اس دن یااس گھڑ ی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا۔مگر باپ۔خبردار!جاگتےاوردعامانگتے رہو۔کیونکہ تم نہیں جانتے کہ وہ وقت کب آئے گا‘‘۔(مرقس با ب۱۳ آیت ۳۲،۳۳) پس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اس اقرار پر باقی خدامانے جانے والے انسانوں کے متعلق بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌ١ۚ فَالَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ تمہارامعبود ایک ہی معبود ہے اورجولوگ آخرت پر ایمان نہیں لاتے۔ان کے دل (حق سے )ناآشناہیں۔قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ وَّ هُمْ مُّسْتَكْبِرُوْنَ۰۰۲۳ اوروہ تکبر سے کام لے رہے ہیں۔حلّ لُغَات۔قُلُوْبُھُمْ مُنْکِرَۃٌ۔مُنْکِرَۃٌ اَنْکَرَ سے اسم فاعل مؤنث کاصیغہ ہے اوراس کے معنے جاہل اورناواقف کے ہیں۔پس قُلُوْبُهُمْ مُّنْكِرَةٌ کے معنے یہ ہوئے کہ ان کے دل جہالت میں مبتلاہوگئے۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حجرآیت نمبر۶۳۔مُنْکَرُوْنَ اَنْکَرَ سے اسم مفعول مُنْکَرٌ بنتاہے اورمُنْکَرُوْنَ اس کی جمع ہے۔اَنْکَرَہُ کے معنے ہیں جَہِلَہٗ اس کونہ پہچانا۔اَنْکَرَ حَقَّہٗ کے معنی ہیں جَحَدَہٗ اس کے حق کاجان بوجھ کر انکار کردیا۔اَنْکَرَ عَلَیْہِ فِعْلَہُ: عَابَہُ وَنَھَاہُ اس کے فعل کومعیوب قرار دیا اوراس سے اُسے روکا۔اَلْمُنْکَر کے معنی ہیں مَالَیْسَ فِیْہِ رِضَی اللّٰہِ مِنْ قَوْلٍ اَوْ فِعْلٍ وَالْمَعْرُوْفُ ضِدُّہٗ۔منکر وہ فعل یاقول ہے جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہو اورلفظ معروف (پسندیدہ) اس کے مخالف معنے اداکرنے کے لئے بولاجاتاہے (اقرب) تفسیر۔قرآن مجید کے منکروں سے خطاب کرنے کے دو طریق یہ جو فرمایاکہ تمہارا خدا ایک ہی خداہےیہ خالی دعویٰ نہیں۔قرآن کریم جب منکروں سے خطاب کر تا ہے توصرف دعویٰ پیش نہیں کرتا۔کیونکہ ان پر خالی دعویٰ کااثر نہیں ہوسکتا۔بلکہ وہ ایسے موقعہ پر دومیں سے ایک طریق اختیار کرتا ہے۔