تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 592
نے ان کو شمال کی طرف دھکیل دیا جوا س زمانہ کے لحاظ سے سب سے ردّی اورسب سے حقیر علاقہ تھا۔ان قوموں کے اندر ایشیا اورمشرق کی طرف آنے کی ایک زبردست خواہش پیداہوگئی جواپنی شدت کی وجہ سے ہرنسل سے دوسری نسل کی طرف وراثتہً منتقل ہوتی چلی گئی او راس طرح سیاسی عداوت کابیج بویاگیا۔غرض ذوالقرنین ایک لحاظ سے یاجوج ماجوج یادجالی فتنہ کے پیداکرنے کاموجب ہوا۔پس اللہ تعالیٰ نے مسیحی ترقی کے اس دور کا ذکر کرنے سے پہلے ذوالقرنین کا ذکر کیااورخصوصاً اس کے اس فعل کا جس کی وجہ سے یاجوج ماجوج کی ایک علیحدہ قو می اورسیاسی بنیاد پڑی۔ذوالقرنین فارسی الاصل تھا ذوالقرنین کے ذکر میں ایک اورحکمت بھی ہے۔اوروہ یہ کہ ذوالقرنین مادہ اور فارس کابادشاہ تھا۔پس اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ یاجوج ماجوج کی پیدائش ایک فارسی نسل کے انسان کے ذریعہ سے ہوئی۔اوراللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ جو اس کے نیک بندے ہو ںجب ان کے کسی نیک فعل کے ثانوی ردعمل کے طور پر کوئی بدی پیداہو تووہ انہی کی اولاد یاہم وطن یا مثل کے ذریعہ سے اس بدی کودورکرواتاہے کہ اس کے نیک بندے کے نام سے ایک دورکا عیب بھی منسوب نہ ہو۔حضرت مسیح موعود اور ذوالقرنین کے فارسی الاصل ہونے میں مشابہت پس ذوالقرنین کا ذکر اس جگہ اس لئے کیا گیا۔تااس خبرکوبطورپیشگوئی بیان کرکے ایک دوسرے ذوالقرنین کی خبر دی جاسکے جوفارسی الاصل ہوگا اور یاجوج ماجو ج کامقابلہ کرکے اس کے زورکوتوڑے گااور اس طرح پہلے ذوالقرنین پر سے الزام کودور کر ے گا اور ذوالقرنین کانام اس وجہ سے پائےگا۔کہ اللہ تعالیٰ اسے دوقوتوں کاوارث بنائے گا۔ایک مہدویت کی قوت اورایک مسیحیت کی قوت۔وہ محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے علوم کاوارث ہونے کی وجہ سے مہدی کہلائے گا اور حضرت مسیح ؑ کی صفات کو اخذ کرنے کی وجہ مسیح کہلائے گا۔جیساکہ حدیثوں میں ہے کہ لَامَھْدِیَّ اِلَّا عِیْسٰی۔پس ان دونوں قوتوں کے حاصل ہونے کے سبب اس کانا م ذوالقرنین ہو گا۔نیزاس وجہ سے بھی کہ و ہ بعض پیشگوئیوں کے مطابق دوصدیوںکو پائے گا۔یعنی ایک صدی کے خاتمہ پروہ خدا تعالیٰ سے الہام پائے گااوردوسری صد ی کے شروع ہونے پر اپناکام ختم کرکے اللہ تعالیٰ کی طرف اٹھایاجائے گا۔اسی کی طرف حدیث ابن ماجہ میں اشارہ ہے کہ لَامَھدی اِلَّاعِیْسٰی (باب شدۃ الزمان)یعنی آنے والاموعود ذوالقرنین ہو گا من جہت مہدی اورمن جہت عیسیٰ ہوگا۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بعض صحابہ نے پوچھا کہ یارسول اللہ یہ جوقرآن کریم میں آتاہے کہ ایک اورجماعت بھی ہو گی جن کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پھر قرآن پڑھائیں گے اس