تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 591
بدل جائے گی۔انہیں پھر بھی ترقی توملے گی لیکن اس ترقی کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ سے صلح کرنی ناممکن ہوگی کیونکہ وقت کے نبی کوپیچھے چھوڑ کر وہ آگے نکل چکے ہو ں گے۔جب تک وہ واپس آکر اس نبی کے ہمرکاب نہ ہوں گے ان کی ترقیات خالص دنیو ی ہوں گی اورآخرت کااس میں کوئی بھی حصہ نہ ہوگا۔پس اس زمانہ کاحال الگ بیان کیاکیونکہ اس زمانہ کی مسیحی قو م نہ صرف سیاستاً بلکہ مذہباًبھی پہلے مسیحیوں سے جداگانہ حیثیت رکھتی ہے۔مسیحی ترقی کے دو۲ دوروں کا ذکر آسمانی کتب میں یہاں ایک اوربات قابل تشریح ر ہ جاتی ہے اورو ہ یہ کہ ذوالقرنین کا ذکربیچ میں کیوں کیا۔جبکہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے کاتھا۔سواس کا جواب یہ ہے کہ مسیحی ترقی کے دو۲ دوروںکانام آسمانی کتب میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ایک دوراصحاب کہف کادورہے۔یعنی جبکہ اصحاب کہف والی کیفیت ان میں پیداتھی۔یا وہ اصحاب کہف کی طرح نیک بننے کی قابلیت رکھتے تھے گو عملاً نیک نہ ہوں۔دوسرادورآسمانی کتابوں میں دور یاجوج ماجو ج کہلاتاہے یعنی وہ دور جس میں نیک بننے کی قابلیت ہی ان سے جاتی رہے گی اورایک نئے نبی کے ظہور کی وجہ سے وہ اپنی ہیئت قومی چھو ڑکرہی خدا تعالیٰ کو پاسکیں گے۔اس نئے دورکے ساتھ ذوالقرنین کا تعلق ہے اورذوالقرنین کے بعض اعمال اس دور کے پیدا ہونے کاموجب ہوئے ہیں۔یاجوج ماجوج اقوام کی تشریح اوروہ اس طرح کہ یاجوج وماجوج ان قومو ں کانام ہے جو شمالی ایشیا اورمشرقی یورپ کے علاقوں میں رہتی تھیں۔ایشیا کی زرخیزی کی وجہ سے وہ اس پر حملے کرتی تھیں(جیوش انسائیکلو پیڈیا زیر لفظ Clog and Mogog)۔اگران حملوں میں وہ کامیا ب ہوجاتیں توجس طرح آریہ قوم ہندوستان میں بس کر دوسری پرانی قوموں میں مل جل گئی ہے یہ قومیں بھی ایشیا کے مختلف ممالک میں پھیل کردوسری اقوام کے ساتھ مل جاتیں اورہرملک کے مطابق مذاہب اختیا رکرلیتیں اور کسی ایک مذہب پر جمع نہ ہوتیں۔لیکن خدا تعالیٰ کی قدرت سے ہوایہ کہ ذوالقرنین (جس کے متعلق تفصیل آگے آئے گی)نے ان اقوام کے حملو ں کو بڑی سختی سے روک دیا۔اوریہ اقوام ایشیاکے انتہائی شمال مغرب اوریوروپ کے مشرق میں گھر گئیں اورذوالقرنین نے اس امر کاانتظام کیا کہ ان اقوا م کے ایشیا میں آنے کی صورت ہی نہ رہے اورگویا ایک قسم کابائیکاٹ کردیاگیا۔نتیجہ یہ ہواکہ یہ اقوام یورپ میں پھیلنی شروع ہوئیں۔اور چونکہ یو رپ میں مذاہب میں سے صرف مسیحی مذہب تھا باقی بت پرستی ہی بت پرستی تھی۔اس لئے دنیا کے پرانے مذاہب میں سے ان اقوام کو صرف مسیحیت سے واسطہ پڑا اوریہ اقوام آہستہ آہستہ سب کی سب مسیحی ہوگئیں اورساری قومیں ایک ہی مذہب میں شامل ہوکر دوسری دنیا کے مقابلہ میں ایک زبردست جتھابن گئیں۔اس طرح مذہبی عداوت کابیج بویاگیا۔اس کے علاوہ چونکہ ذوالقرنین کے ماتحت اوراس کی پالیسی پر عمل کرکے سب ایشیا