تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 593 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 593

سے کیا مراد ہے۔یعنی اگرآپ فوت ہوچکے ہو ں گے تویہ کام کس طرح کریں گے اس کے جواب میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلمان فارسیؓ کی پیٹھ پر ہاتھ رکھ فرمایا کہ وَالَّذِیْ نَفْسِی بِیَدِہٖ لَوْکَانَ الْاِیْمَانُ بِالثُّریَّا لَنَالَہُ رِجالٌ مِنْ ھٰٓؤُلَآءِ(الدرالمنثور فی التفسیر بالمأثور سورۃ الجمعۃ زیر آیت وآخرین منھم لما۔۔۔) اور ابن مردویہ نے سعد ابن عباد ہ سے جوروایت کی ہے۔اس میں لکھا ہے رِجَالٌ مِنْ فَارِسَ کہ فارسی لوگ ایما ن کو پھرواپس لے آئیں گے۔اوربعض روایات میں رجُلٌ کالفظ بھی آتاہے (بخاری)یعنی ایک خاص موعود کی طرف اشارہ کیا گیاہے۔ان سب روایات کو ملاکر معلوم ہوتاہے کہ ایک خاص موعود شخص جو فارسی الاصل ہوگاآخری زمانہ میں ایمان کے اٹھ جانے کے بعد پھر ایما ن کوواپس لائے گا۔اوراس کے اس کام میں بعض اورفارسی الاصل لوگ بھی اس کے مؤیدہوںگے۔اب رہایہ سوال کہ اس کا یاجوج ماجوج کے زمانہ سے کیاتعلق ہے ؟ یاجوج ماجوج، دجال ایک ہی مذہب والوں کے نام ہیں تواس کا جواب یہ ہے کہ قرآن کریم اوراحادیث سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ اسلام کی یہ حالت آخری زمانہ میں ہوگی جبکہ یاجوج ماجوج اوردجال کا ظہور ہوگا اوریہ بھی معلوم ہوتاہے کہ دونوں نام ایک ہی مذہب والوں کے ہیں۔فرق یہ ہے کہ یاجوج ماجوج کالفظ سیاسی فتنہ پردلالت کرتاہے اوردجال کامذہبی فتنہ پر۔پس دونوں قسم کی روایات کوملاکریہ حقیقت ظاہرہوجاتی ہے کہ یاجوج ماجوج کے زمانہ میں جواشاعت کفر ہوگی اس کامقابلہ ایک فارسی مردکرے گا۔اوراس کے اس کام میں معاون بعض اورفارسی مرد بھی ہوں گے۔پس فارسی الاصل ذوالقرنین کے فعل پر جواعتراض پڑتاتھا۔اس کابھی اس کے تفصیلی حالات بیان کرکے ازالہ کردیا اوراس واقعہ کو قرآن کریم میں بطورپیشگوئی کے بیان کرکے یہ بھی بتادیا کہ اگر ایک ذوالقرنین نے دنیوی طور پر یاجوج ماجوج کے حملوں کی روک تھام کی تھی تو ایک اورذوالقرنین ان کے مذہبی حملوں کی جوآئندہ زمانہ میں ہونے والے ہیں روک تھام کرے گا۔ذوالقرنین پر بھی اعتراض ہوا کہ فارسی الاصل نہیں (صاحبان ذوق کے لئے یہ نکتہ یاد رکھنے کے قابل ہے کہ جس طرح دوسرے ذوالقرنین پر اعتراض کیاگیاہے کہ یہ اصل میں فارسی الاصل نہیں کیونکہ اس کے آباء فارسی ہونے سے پہلے چینی علاقہ کے رہنے والے تھے۔اسی طرح ذوالقرنین اول کی نسبت تاریخ میں آتاہے کہ وہ اصل میں ماد ہ کاتھا فارسی صرف عارضی تعلقات کی وجہ سے کہلاتاہے ) رَجُلٌ مِنْ فَارِسَ کی صفات بہاء اللہ میں نہیں پائی جاتیں میں اس جگہ ایک اورشبہ کاازالہ بھی کردینا چاہتاہوں کہ بعض بہائی لوگ ان پیشگوئیوں کوبہاء اللہ پر چسپاں کرتے ہیں کہ وہ فارسی الاصل تھے۔مگریہ