تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 590 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 590

ہوئے دینی دنیوی ترقیا ت حاصل کرتی ہیں (۲) و ہ قو میں جونبی وقت پر ایما ن لاتی ہیں لیکن بدکاریوں اورشرارتوں میں مبتلاہوجاتی ہیں۔یہ قومیں گواللہ تعالیٰ کے غضب کے نیچے ہوتی ہیں لیکن اپنی قومی ہیئت تبدیل کئے بغیر اسی مذہب میں رہتے ہوئے اپنی اصلاح کرکے خدا تعالیٰ کے فضل کودوبار ہ جذب کرسکتی ہیں کیونکہ نبی وقت پر انہیں ایمان ہوتاہے صرف عمل خراب ہوتے ہیں(۳)و ہ قومیں جو نہ صرف بدعمل ہوجاتی ہیںبلکہ ان کی خرابی کے زمانہ میں دوسرانبی آجاتاہے اوروہ اس کے ماننے سے محروم رہ جاتی ہیں۔اس وقت ان کی طرف سے کسی قسم کی اصلاح کی کوشش بھی خدا تعالیٰ کوراضی نہیں کرسکتی جب تک کہ وہ اپنی قومی ہیئت کو نہ بدلیں۔اوراللہ تعالیٰ کے آخر ی نبی کوقبول نہ کریں۔(۴)و ہ قومیں جو کسی نبی پر ایما ن ہی نہیں رکھتیں اوران کی سب ترقیات خالص دنیو ی ہوتی ہیں۔اور خدا تعالیٰ سے روحانی تعلق پیداکرنے کے لئے ضروری ہوتاہے کہ وہ وقت کے نبی پر ایما ن لاکر اس کے احکام کے مطابق عمل کر یں۔ان چاروں حالتوں کے سمجھ لینے کے بعد یہ امر آسانی سے سمجھ میں آسکتاہے کہ مسیحی ترقی کے دوراول کا آخر ی حصہ اس قوم کودوسری قسم کی اقوام میں شامل کرتاہے یعنی اس وقت و ہ دین سے دور توجاچکے تھے۔مگراپنی ہیئت بدلے بغیر اللہ تعالیٰ سے صلح کرسکتے تھے کیونکہ وہ حضرت مسیح کوجووقت کے نبی تھے مانتے تھے۔مگراس کے بعد اسراء موسیٰ کی پیشگوئی کے مطابق محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوگئے۔اورا ب مسیحی قسم دوم سے نکل کر قسم سوم میں شامل ہوگئے۔کیونکہ وہ مجمع البحرین کو بھول کر آگے نکل گئے یعنی ان کی عملی اوراعتقادی حالت ہی خراب نہ رہی بلکہ خدا تعالیٰ سے صلح کرنے کے لئے اب ضروری ہوگیا کہ وہ اپنی سیاست اوراپنے نظام کوبھی ترک کریں اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پرایما ن لا کر اسلامی نظام اوراسلامی سیاست میں شریک ہوجائیں۔ظاہر ہے کہ جب یہ دونوں قسمیں اس قدر مختلف ہوں اورخصوصاً جبکہ گفتگونیم سیاسی اثرات کے متعلق ہوتواس عظیم الشان فرق کونظرانداز نہیں کیاجاسکتا اورجبکہ ا س طریق کلام سے مزید فائدہ یہ پہنچتاتھا کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کاوجودمسیحی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے تویہ ترتیب نہ صرف ضرور ی معلوم ہوتی ہے بلکہ ایک معجزانہ ترتیب معلوم ہوتی ہے۔خلاصہ یہ کہ پہلے اصحاب کہف کا ذکرکیا گیا ہے جبکہ مسیحی یاتونیک تھے یا بگڑ چکے تھے مگرنبی وقت کے ماننے والے تھے اورخدا تعالیٰ سے صلح کرنے کے لئے انہیں اپنی قوم اوراپنی سیاست کوچھوڑنے کی ضرورت نہ تھی۔اس کے بعد موسیٰ کی زبانی محمد رسول اللہ ؐ کے ظہورکی خبر دی اوربتایاکہ اس نبی کے پیدا ہونے کے بعد مسیحی قوم کی حالت