تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 589 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 589

تھا (فصل الخطاب صفحہ ۲۰۷،۲۰۸)۔ذوالقرنین کاواقعہ بیا ن کرنے کی حکمت حضرت استاذی المکرم کا خیال بیان کرنے کے بعد اب میں اپنی تحقیق بیان کرتاہوں۔مگرپیشتراس کے کہ میں ذوالقرنین کے متعلق اپنی تحقیق بیا ن کروں میں یہ امر بیان کرناچاہتاہوں کہ ذوالقرنین کاواقعہ قرآن کریم میں کیوں بیان کیا گیا ہے اوراسے سورۃ کہف کے اس حصہ میںواقعہ اسراء کے بعد کیوں رکھا گیاہے۔میں اوپربیان کرآیاہوں کہ سورۃ کہف میں اسلام اور مسیحیت کے مقابلہ کا ذکر ہے خصوصاً ا س حصہ کامقابلہ جونیم سیاسی کہلاسکتاہے یعنی ہے تومذہبی مگردونوں مذہبوں کی سیاسیات سے وابستہ ہے۔سورۃ کہف کے واقعات کی ترتیب حکمت کے ماتحت ہے سب سے پہلے اصحاب کہف کاواقعہ بیان کرکے بتایا کہ مسیحیت کی ابتداء کس طرح ہوئی اوروہ کس طرح بگڑے پھرموسیٰ علیہ السلام کے اسراء کے واقعہ کوبیان کرکے بتایا کہ اصحاب کہف کی نسلوں کی ترقی ایک حد تک جاکر رک گئی۔کیونکہ موسیٰ کے اسراء میں یہ بات بتائی گئی تھی کہ موسیٰ ؑ کی قوم ایک حد تک جاکر روحانی ترقی سے محروم ہوجائے گی اوراس وقت ایک او رنبی خدا تعالیٰ کی طر ف سے ظاہرہوگا اوریہ بھی بتایاگیاتھا۔کہ موسیٰ کی قوم سے مراد اس جگہ موسوی سلسلہ کاآخری حصہ ہے یعنی مسیحی۔ورنہ خالص موسوی حصہ توپہلے ہی مردہ ہوچکا ہے۔غرض اصحاب کہف کے واقعہ کے بعد اسرا ء موسیٰ کاواقعہ بیا ن کرکے بتایا کہ مسیحی قوم کی پہلی ترقی کادورمحمد رسول اللہ صلعم کی بعثت کے ساتھ ختم ہوجائے گا۔چنانچہ بعدکے واقعات سے یہ پیشگوئی زبردست طورپرپوری ہوئی اورمومنوں کے ایما ن کو اس سے بے انتہاتقویت ملی۔کیونکہ مکی زندگی میں یہ خبر دینا کہ مسلما ن عیسائیوں کو زک دیں گے ایک ایسی زبردست پیشگوئی ہے جس کی نظیر نہیں مل سکتی۔اس کے بعد ذوالقرنین کاواقعہ مسیحی قوم کے ترقی کے دوسرے دور کی خبردینے کے لئے بیان کیاگیاہے۔اگر کہا جائے کہ اس طریق کواختیار کرنے کی کیاضرورت تھی معمولی طور پر مسیحیت کی ساری ترقی کواکٹھابیان کردیاجاتا۔تواس کایہ جواب ہے کہ دنیاداروں کی نگاہ میں بے شک یہ معمولی بات ہے لیکن جو شخص دین کی اہمیت کو سمجھتاہووہ اسے کسی صورت میں جائز نہیں کہے گا۔بلکہ قرآن کریم کے اختیار کئے ہوئے طریق کو ہی درست اورضروری قراردے گا۔اقوام کی مذہبی اقسام تفصیل اس اجما ل کی یہ ہے کہ الٰہی قانون کے مطابق جوشروع زمانہ سے چلا آیاہے اقوام کی مذہبی حالت چا رقسم کی ہوتی ہے (۱)وہ قومیں جو نبی وقت پرایما ن لاتی ہیں اوراس ایما ن پر ثابت قدم رہتے