تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 588
وَ يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنْ ذِي الْقَرْنَيْنِ١ؕ قُلْ سَاَتْلُوْا عَلَيْكُمْ مِّنْهُ اوروہ تجھ سے ذوالقرنین کے متعلق بھی سوال کرتے ہیں تو(انہیں )کہہ (کہ)میں ضروراس کے متعلق کچھ ذِكْرًاؕ۰۰۸۴ ذکرتمہارے سامنے کروں گا۔حلّ لُغَات۔اَلْقَرْنَیْنِ اَلْقَرْنُ کاتثنیہ ہے اوراَلْقَرْنُ کے معنے ہیں۔اَلرَّوْقُ مِنَ الْحَیَوانِ۔جانورکاسینگ۔اَلْقَرْنُ :مِائَۃُ سَنَۃٍ۔سوسال۔اَلْقَرْنَانِ کَنَایَۃٌ عَنْ مَشْرِقِ الْاَرْضِ وَمَغْرِبِھَا یعنی قرنان کالفظ بول کر کنایۃً مشرق اورمغرب کے ممالک مرادلیتے ہیں(اقرب) تفسیر۔ذوالقرنین کے واقعہ کی طرف راہنمائی کا فخر حضرت خلیفۃ المسیح اولؓ کو یہ ذوالقرنین کاواقعہ بھی ایساہے کہ خدا تعالیٰ نے استاذی المکرم حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓکواس کی طرف راہنمائی کرنے کافخر بخشا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ اس کے مضمون پرزمانہ حال کے بعض دوسرے مصنفوں نے بھی روشنی ڈالی ہے اوراس غلط خیال کی تردید کی ہے کہ اس سے مراد سکندررومی ہے۔اوربعض نے ذوالقرنین کے یہ معنے کئے ہیں کہ ایک باد شاہ جس کی حکومت مشرقی اورمغربی ممالک میں پھیل گئی تھی۔بلکہ ایک جرمن ڈاکٹر ہربیلاٹ مصنف ببلیااورئینٹل نے تویہ کہہ کر کہ اس سے مراد ایران کے ابتدائی بادشاہوں میں سے کو ئی ہے قریباً صداقت پرہاتھ جاماراہے۔(ویریز کمنٹری آن قرآن )حضرت مولوی صاحب نے ذوالقرنین کے بارہ میں اپنی تحقیق کی بنیاد بائبل پررکھی ہے۔آپ فرماتے ہیں۔دانیا ل نبی کی ایک خواب بائبل میں لکھی ہے اس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رویا میں ایک مینڈھا دیکھا جس کے دوسینگ تھے۔اوروہ پچھم اتردکن کی طرف سینگ مارتاتھا اورکوئی جانوراس کے سامنے نہ ٹھہر سکتاتھا اوروہ جوچاہتاتھا کرتاتھا۔(دانیال باب ۸ آیت۳،۴)پھر لکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اس کی تعبیر یہ بتائی کہ ’’وہ مینڈھا جسے تو نے دیکھا کہ اس کے دوسینگ ہیں سوو ہ مادہ اورفارس کے باد شاہ ہیں ‘‘(باب۸ آیت۲۰) اس خواب کی بناء پر جس میں ماد ہ اورفارس کے بادشاہوں کودوسینگ والے مینڈھے کی شکل میں دکھایا گیاہے آپ فرماتے تھے کہ ذوالقرنین سے مراد ماد ہ اورفارس کاکوئی باد شا ہ ہے۔نیز آپ کایہ بھی خیال تھا کہ یہ بادشاہ کیقباد