تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 54 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 54

محسوس نہیں کرتے۔تفسیر۔خالق ہونے کے علاوہ ہدایت دینے والے وجود کے لئے زندہ ہونابھی ضروری ہے۔تاکہ جب کوئی خرابی ہو وہ اس کی اصلاح کرسکے۔اس دلیل سے معبودان باطلہ کے ہدایت دینے کے قابل ہونے سے انکار کیااورفرمایا کہ جن کو تم پوجتے ہو سب فوت ہوچکے ہیں پھر وہ ہادی کس طرح ہوسکتے ہیں۔اگر اس زمانہ میں خرابی پیداہو تووہ اسے کس طرح دورکریں گے۔اَيَّانَ يُبْعَثُوْنَ کی آیت کے رو سے حضرت عیسیٰ ؑ کی وفات کا ثبوت تعجب ہے کہ مسلمانوں میں اس ارشاد کے خلاف بھی عقیدہ پیداہورہا ہے اور ایک کثیر جماعت حضرت عیسیٰؑ کو زندہ مان رہی ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس قدر جھوٹے معبود قرآن مجید کے زمانہ میں تھے وہ سب فوت ہوچکے تھے پس چونکہ عیسائی حضرت عیسیٰ کو معبود مانتے تھےاس الٰہی شہادت کے ماتحت وہ قرآن کریم کے نزول سے پہلے فوت ہوچکے تھے۔اوراگرانہیں زندہ تسلیم کیاجائے۔توماننا پڑے گاکہ وہ نعوذ باللہ معبودانِ باطلہ میں سے نہ تھے بلکہ فی الواقعہ خدا تھے۔نعوذ باللہ من ذالک۔آیت لَا يَخْلُقُوْنَ اوراَيَّانَ يُبْعَثُوْنَمیں شرک کے رد میں چار زبردست دلائل ان دونوں آیات میں شرک کارد بھی نہایت زبردست دلائل سے کیا گیا ہے اوراس کے لئے چاردلائل دیئے ہیں۔(۱)لَایَخْلُقُوْنَوہ پیدا نہیں کرتے۔حالانکہ خداہونے کے لئے خالق ہوناضروری ہے۔کیونکہ کامل وجود ہی معبود ہوسکتا ہے۔(۲)وہ خود پیدا کئے گئے ہیں۔یعنی ا ن میں احتیاج الی الغیر پائی جاتی ہے اورمحتاج الی الغیر ناقص ہوتاہے معبود نہیں ہوسکتا۔(۳)وہ مردہ ہیں۔زندہ نہیں۔یعنی اس زمانہ میں وہ بے نفع اوربے ضرر ہیں۔اورخداوہی ہوسکتا ہے جو ہمیشہ نفع اورضرر کی طاقت رکھتاہو۔(۴)انہیں یہ بھی معلوم نہیں کہ و ہ کب اٹھائے جائیںگے۔گویاان کاانجا م بھی دوسرے کے ہاتھ میں ہے۔اس آخری دلیل کے متعلق کہاجاسکتا ہے کہ اس کاکیاثبوت ہے کہ انہیں علم نہیں کہ وہ کب اٹھائے جائیں گے سو اس کا جواب یہ ہے کہ سب سے زیادہ پوجاجانے والا وجود حضرت مسیح کاہے۔وہ یوم البعث کے متعلق خود کہتے ہیںکہ۔