تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 566
کرکے امڈ آتے ہیں۔صوفیاء نے تویہاں تک بحث کی ہے کہ عبدکا مقام سب درجات سے بڑادرجہ اوربلند مقام ہے اورسوائے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کوئی کامل عبد نہیں ہے۔اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا میں بھی آپ کے وجود کی طرف اشار ہ فرمایا ہے۔جیساکہ فرماتا ہے وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِيْنَ (الانبیاء :۱۰۸)یعنی ہم نے تجھے جہان کے لئے رحمت ہی رحمت بناکربھیجاہے۔عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۔یعنی اس کو خاص علم دیاگیاہے جوپہلو ں کو نہ ملا۔سورۃ نساء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَ عَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا(النساء :۱۱۴)کہ اے رسول ہم نے تجھے وہ کچھ سکھایاہے جوتوپہلے نہ جانتاتھا۔اورتجھ پر اس ذریعہ سے بڑافضل کیاہے۔اسی طرح فرماتا ہے۔وَ عُلِّمْتُمْ مَّا لَمْ تَعْلَمُوْۤا اَنْتُمْ وَ لَاۤ اٰبَآؤُكُمْ(الانعام :۹۲) یعنی اس نبی کے ذریعہ سے تم کو وہ علم عطا کیاگیاہے جواس سے پہلے کسی کو نہیں دیا گیا۔اور پہلوں میں موسیٰ و عیسیٰ بھی شامل ہیں۔اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔اِنَّكَ لَتُلَقَّى الْقُرْاٰنَ مِنْ لَّدُنْ حَكِيْمٍ عَلِيْمٍ (النمل :۷) یعنی تجھ کو قرآن حکیم اورعلیم خدا کی طرف سے سکھایاجاتاہے۔اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دعاسکھائی گئی ہے کہقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا(طٰہٰ :۱۱۵)یعنی اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)تواللہ تعالیٰ سے دعا کرتا رہا کر کہ الٰہی میراعلم اوربڑھا۔میراعلم اوربڑھا۔قَالَ لَهٗ مُوْسٰى هَلْ اَتَّبِعُكَ عَلٰۤى اَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا موسیٰ نے اس سے کہا(کہ )کیامیں اس (مقصد کے )لئے آپ کے ساتھ چل سکتاہوں۔کہ جوعلم آپ کو عطاہواہے عُلِّمْتَ رُشْدًا۰۰۶۷ اس میں سے کچھ رشد (کی باتیں)مجھے بھی سکھائیں۔حل لغات۔رُشْدٌ۔رُشْدٌ حق کے راستے پراستقامت اختیار کرنارشد کہلاتاہے (اقرب) تفسیر۔اس آیت سے موسوی مقام اورمحمدی مقام کامقابلہ کرکے دکھایاگیاہے اوربتایا ہے کہ موسوی مقام محمدی مقام کے تابع ہے اورجن امور کی تہ تک محمدی علوم پہنچے ہیں۔ان تک موسوی علوم نہیں پہنچے۔اور کشف میں ا س لطیف مقابلہ کو ایک مکالمہ اورمصاحبت کی صورت میں دکھایاگیاہے۔