تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 565
یہ نظار ہ بھی کشف پر دلالت کرتاہے۔ورنہ مجمع البحرین کے سمجھانے کے لئے کسی ظاہر ی مچھلی کے نشان کی کوئی ضرورت نہ تھی۔اوراگر ظاہری طور پر مچھلی کو دیکھ کر و ہ ونوں چل رہے تھے۔توپھر بھولنے کے معنے ہی کوئی نہیں۔کیا کبھی ا س دنیا میں ایسا ہواہے کہ مثلاً کوئی شخص موٹر میں سفر کررہاہو۔پھر ایک لمباسفر طے کرنے کے بعد وہ بھول جائے کہ میں موٹر میں سفر کررہاتھا۔اورپید ل سفرکرنے لگ جائے۔اور کچھ دورجاکر اسے یہ بات یاد آئے۔غرض جب مچھلی کے نشان پر و ہ چل پڑے تھے تو وہ ایک قدم بھی مچھلی کے بغیر نہ چل نہیںسکتے تھے۔اس میں بھولنےکاکوئی امکان ہی نہ تھا۔قَالَ ذٰلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِ١ۖۗ فَارْتَدَّا عَلٰۤى اٰثَارِهِمَا قَصَصًاۙ۰۰۶۵ اس نے کہا (کہ )یہی وہ (مقام )ہے جس کی ہمیں تلاش تھی۔پھر وہ اپنے پائوں کے نشان دیکھتے ہوئے واپس لوٹے۔حلّ لُغَات۔نَبْغ۔نَبْغِ بَغَاہُ کے معنے ہیں طَلَبَہُ اسے چاہا (اقرب)نَبْغِ جمع متکلم کاصیغہ ہے اس کے معنے ہوں گے کہ ہم چاہتے ہیں۔تفسیر۔یعنی اس موقعہ پر وہ سمجھ جائیں گے کہ انہوں نے غلطی سے اپنا الگ سفر جاری رکھا۔مجمع البحرین کو تووہ پیچھے چھو ڑآئے ہیں۔فَوَجَدَا عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤ اٰتَيْنٰهُ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا وَ توانہوں نے ہمار ے(برگزید ہ)بندوں میں سے ایک ایسابندہ (وہاں)پایا جسے ہم نے اپنے حضور سے رحمت (کی عَلَّمْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّا عِلْمًا۰۰۶۶ سیرت)بخشی تھی۔اوراسے ہم نے اپنی جناب سے (خاص )علم (بھی)عطا کیاتھا۔تفسیر۔عَبْدًا سے مرادآنحضرت ؐ ہیں عَبْدًا مِّنْ عِبَادِنَاۤقرآن مجید میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوعبدٌ کے لفظ سے یاد کیاگیا ہے۔سورۃ الجن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہےوَاَنَّہٗ لَمَّا قَامَ عَبْدُ اللّٰہِ یَدْعُوْہُ کَادُوْا یَکُوْنُوْنَ عَلَیْہِ لِبَدًا۔(الجن :۲۰)کہ آپ جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں۔تولوگ آپ ہجوم