تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 567 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 567

قَالَ اِنَّكَ لَنْ تَسْتَطِيْعَ مَعِيَ صَبْرًا۰۰۶۸ اس نے کہا (کہ)تومیرے ساتھ رہ کر ہرگزصبرنہیں کرسکے گا۔تفسیر۔محمدی کمالات کی بلندی اس آیت میں گویا لن ترانی والے مضمون کو بیان کیاگیاہے کہ محمدی کمالات کی بلندی کو موسوی کمالات نہیں پہنچ سکتے۔اوربتایا ہے کہ محمدی قوم کاصبر اورمرتبہ رکھتاہے اورموسوی قوم کاصبراور مرتبہ رکھتاہے۔جن ابتلائوںاورمشکلا ت کامسلمانوں نے مقابلہ کیا موسوی سلسلہ کے لوگ وہاں آکر رہ گئے۔ا س میں اس طرف بھی اشارہ کیا ہے۔کہ گومسیحی سلسلہ کےلوگوںنے ایک لمبے عرصہ تک مشکلات برداشت کیں مگروہ مشکلات جسمانی تھیں۔علمی آزمائیشیں نہ تھیں۔علمی مشکلات کاوہ مقابلہ نہیں کرسکے۔چنانچہ خود حضرت مسیح ؑ شاکی رہے کہ میرے مقام کوکوئی نہیں سمجھا۔حتیٰ کہ انجیل میں تویہاں تک لکھا ہے۔کہ مسیح ؑنے اپنی فلسطینی زندگی کے آخری سال میں جبکہ صلیب کاواقعہ قریب تھا۔اپنے سب سے مقرب شاگرد پطرس سے پوچھا کہ لوگ مجھے کیا سمجھتے ہیں۔اورجب انہوں نے بتایاکہ مَیں توآپ کومسیح سمجھتاہوں تووہ بہت خو ش ہوئے (متی باب ۱۶ آیت ۱۳۔۱۹) جس سے معلوم ہوتاہے کہ اورتواورحواری بھی ان کومسیح ماننے کے لئے تیار نہ تھے۔صرف ایک معمولی نبی سمجھتے تھے۔پس پطرس کے ایمان کودیکھ کر ان کوخوشی ہوئی۔آنحضرت ؐ کے صبر نفس کا مقابلہ موسوی قوم سے اس آیت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ ؑ کی طبیعتوںکابھی مقابلہ ہے۔حضرت موسیٰ ؑ جلد سوال کرنے لگ جاتے۔اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہتے۔یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ہی آپ پر ہربات ظاہرکرتا۔اوریہی فرق دونوں کی امتوں میں تھا۔تورات پر نظر ڈالو۔کہ بنی اسرائیل سوال پر سوال کررہے ہیں۔مگرآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قوم کا یہ حال ہے کہ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم انتظار کیاکرتے تھے کہ کوئی اعرابی آوے۔اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے کوئی سوال پوچھے۔تاہم بھی سن لیں۔گویا اس قدر وقار اورصبر نفس حاصل تھا۔کہ خود نہ پوچھا کرتے تھے۔اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔اَمْ تُرِيْدُوْنَ اَنْ تَسْـَٔلُوْا رَسُوْلَكُمْ كَمَا سُىِٕلَ مُوْسٰى مِنْ قَبْلُ(البقرة :۱۰۹) کہ کیاتم سے بعض موسیٰ کی قوم کی طرح سوال کرناچاہتے ہیں۔ایسانہ کرنا۔وہ لوگ انہیں بار بار خدا تعالیٰ کی طرف توجہ کرنے پر اور ہر بات کے متعلق سوال کرنے کے لئے مجبورکیاکرتے تھے۔چنانچہ اس حکم پر عمل کرتے ہوئے صحابہؓ نے ادب کے طریق کومضبوطی سے پکڑ لیا(بخاری کتاب العلم )۔خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کایہ حال