تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 564 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 564

الْعَجَبُ۔اِنْکَارُمَا یَرِدُ عَلَیْکَ یعنے جب کوئی ایسا امر پیش آئے کہ اس کے ماننے میں طبیعت کو انقباض اور انکار ہو تو اس حالت انکار کو عجب کہتے ہیں۔اِسْتِطْرَافُہُ۔پیش آمدہ امر کو پسند کرنے کو بھی عجب کہتے ہیں۔رَوْعَۃٌ تَعْتَرِی الْاِنْسَانَ عِنْدَ اسْتِعْظَامِ الشَّیْءِ۔یعنی اس حالت رعب کو بھی عجب کہتے ہیں جو انسان پر کسی چیز کو بہت ہی بڑا سمجھنے کے وقت طاری ہوتی ہے۔وَمِنَ اللہِ : الرَّضٰی اور جب اللہ کی طرف اس لفظ کو منسوب کیا جاوے تو اس کے معنی پسندیدگی کے ہوتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔الصخرة کی تعبیر اور موسوی قوم کا فسق و فجور میں مبتلا ہونا الصَّخْرَۃُ:الْحَجَرُ الْعَظِیْمُ الصَّلْبُ(اقرب)یعنی عربی زبان میں بڑے اور سخت پتھرکوکہتے ہیں اورعلم تعبیر میں صخر ہ کے معنے لکھے ہیں۔وَتَدُلُّ عَلٰی الْقِحَۃِ و الْفُجُوْرِ (تعطیر الانام المنام زیر لفظ صخرہ)یعنی خواب میں کوئی صخرہ دیکھے تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ نہایت گندے فسق و فجور میں مبتلاہوگیا ہے۔اس تعبیر کی روسے اِذْ اَوَيْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ کے معنے یہ ہوں گے کہ جب ہم فسق وفجو رمیں مبتلاہوگئے اورمیں بتاآیا ہو ں کہ اس کشف میں موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ ؑ سے مراد ان کی اقوام ہیں۔کیونکہ محمد رسول اللہ صلعم کا زمانہ انہوں نے پایا تھا نہ کہ خود حضرت موسیٰ اورحضر ت عیسیٰ ؑ نے۔پس یہ تعبیر ہمیں دھوکے میں نہیں ڈال سکتی۔مراد یہ ہے کہ جب و ہ قوم جو حضرت موسیٰ ؑ اور حضرت عیسیٰ کی مشترکہ تھی۔فسق وفجور میں مبتلاہوجائے گی۔وہی زمانہ مجمع البحرین کا ہوگایعنی اس وقت محمد رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہر ہوںگے اور یہ ظاہر ہے کہ نبی تبھی دنیا میںآتے ہیں جبکہ اس وقت کے لوگ فسق و فجور میں مبتلاہوجاتے ہیں۔پس ا س نظارہ کی تعبیر یہ ہوگی۔کہ جب مسیحی قو م فسق وفجور میں مبتلاہوگئی تھی وہی وقت محمد رسول اللہ ؐ کے ظہور کاتھا۔اوریہ خیا ل مسیحیوں کو ایک لمبے عرصہ کے بعد اپنے سفرمیں تھک جانے اوراپنی کوششوں میں ناکا م رہنے کے بعد پیدا ہوگا اوروہ افسوس کریں گے کہ ہم نے اس زمانہ کوکیوں کھودیا۔وَ مَاۤ اَنْسٰىنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ نے اس مضمون کواوربھی واضح کردیا ہے یعنی محمد رسول اللہ کی پہچان سے ہم شیطانی وساوس کی وجہ سے محروم رہے۔ورنہ جبکہ ہمار ی قو م کے ہاتھ سے عبادت کے ثمرات جاتے رہے تھے۔اورہم فسق وفجور میں مبتلاہوگئے تھے۔توکیوں ہم نے یہ نہ سمجھ لیا کہ اب مجمع البحرین کا مقام آگیاہے۔اورہمار ی قوم سے خدا تعالیٰ نے اپنی مدد ہٹالی ہے۔اورموعود نبی کا زمانہ آچکا ہے۔اوروَ اتَّخَذَ سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِعَجَبًا۔جو فرمایا اس میں وہ اپنی اس غلطی پر تعجب کرتے ہیں کہ حوت ہمارے ہاتھ سے نکل کر کس طرح دوسرے سمندر میں چلی گئی۔یعنی عبادت کے ثمرات مسلمانوں کی طرف منتقل ہوگئے اور ہم خالی ہاتھ رہ گئے۔