تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 563 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 563

خود وہ تعبیر کے قابل امورکاحصہ نہیں ہوتے۔مثلاً ایک شخص خواب میں ایک موت کا نظارہ دیکھتاہے تواس کے ساتھ کوئی مکان وغیرہ بھی دیکھ لیتا ہے۔وہ مکان تعبیر طلب نہیں ہوتا۔بلکہ صرف وہ نظارہ جس سے کسی کی موت پر دلالت کی جاتی ہے۔تعبیر طلب ہوتاہے۔لیکن اگر اس واقعہ کی بھی تعبیر ک جائے تومضمون میں وسعت ہی پیداہوتی ہے۔اس لئے میں اس کی بھی علم تعبیر کے مطابق تشریح کردیتاہوں۔غداء کے معنے علم التعبیر میں یہ لکھے ہیں کہ جو اپنا غداء طلب کرے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ تھک جائے گا۔(تعطیر الانام زیر لفظ غداء ) ان معنوں کے روسے یہ مراد ہوگی کہ جب مجمع البحرین یعنی رسول کریم صلعم کا زمانہ آجائے گا توحضرت موسیٰ اورعیسیٰ کی قوم ا س سے فائدہ نہ اٹھائے گی (کیونکہ یقیناً ا س کشف میں موسیٰ اورعیسیٰ علیھما السلام سے مراد ان کی قومیں ہیں نہ کہ وہ خود۔کیونکہ انہوں نے محمد رسول اللہ کا زمانہ نہیں پایا۔بلکہ ان کی قوم نے یہ زمانہ پایا )بلکہ ان کاانکار کرکے اپنے سفر کوجاری رکھے گی اوراپنے مذہب کے زمانہ کے ختم ہونے کو تسلیم نہ کرے گی۔تب ایک لمبے سفر کے بعد وہ اپنے اند رتکان محسوس کرے گی حیران ہوگی کہ ہمیں جو کہاگیاتھا کہ ایک رسول کامل آنے والا ہے وہ کیوں نہیں آیا۔اس وقت تھک کروہ سوچ میں پڑ جائے گی کہ کہیں ہم سے غلطی تونہیں ہوئی۔کہیں وہ آتو نہیں چکا۔اورہم ا س کے ماننے سے محرو م تونہیں رہ گئے۔قَالَ اَرَءَيْتَ اِذْ اَوَيْنَاۤ اِلَى الصَّخْرَةِ فَاِنِّيْ نَسِيْتُ اس نے کہا (کہ )بتائیے (اب کیا ہوگا) جب ہم (آرام کے لئے )اس چٹان پر ٹھیرےتومیں مچھلی(کاخیال )بھول الْحُوْتَ١ٞ وَ مَاۤ اَنْسٰىنِيْهُ اِلَّا الشَّيْطٰنُ اَنْ اَذْكُرَهٗ١ۚ وَ اتَّخَذَ گیا۔اورمجھے یہ (بات )شیطان کے سواکسی نے نہیں بھلائی۔اوراس نے سمندر میں عجیب طرح سَبِيْلَهٗ فِي الْبَحْرِ١ۖۗ عَجَبًا۰۰۶۴ سے اپنی راہ لے لی۔حلّ لُغَات۔عجبًا۔اَلْعَجَبُ کے لئے دیکھو یونس آیت نمبر۳۔