تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 562
بتایا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ سے بتایاگیاتھا کہ محمد رسو ل اللہؐ اوران کی جماعت کی سچائی کاثبوت یہ ہوگاکہ ان کے چہروں سے یہ معلوم ہوگاکہ خداتعالی ٰ نے ان کے سجدوں کوقبول کرلیا ہے۔جبکہ ان کے مخالفوں کی عبادتیں رد کردی جائیں گی۔اوراللہ تعالیٰ کے فضلوں کے آثا ر ان کے چہروں سے ظاہر نہ ہو ں گے۔اس کشف کو تورات سے تحریف کر کے یہود نے نکال دیا ہے میں اس آیت کو دیکھتے ہوئے سمجھتاہوں کہ تورات میں اس کشف کا ذکر تھا۔مگریہود میں سے بعض نے جہا ں اورتحریفیں تورات میں کیں وہاں اسے بھی نکال دیا۔کیونکہ اس سے ان کی قوم پر ایک زد پڑتی تھی۔لیکن ان کی زبانی روایات میں ا س کشف کا ذکر باقی رہ گیاہے۔جیساکہ یہود کے دوسرے لٹریچر میں اس کشف کابگڑی ہوئی صورت میں وجود پایا جاتا ہے۔ا س آیت سے یہ بھی ثابت ہوتاہے کہ موسوی سلسلہ محمدی سلسلہ کی ایک کڑی تھا۔کیونکہ مجمع البحرین کاظاہر میں کوئی نشان نہ ہونابتاتاہے کہ یہ دونوں سمندر اس طرح آپس میں ملے تھے۔کہ دوسمندر نہ معلوم ہوتے تھے بلکہ اگلا سمندر پہلے کا تسلسل ہی معلوم ہوتاتھا۔گویا پہلے سمندر کاپانی دوسرے میں آملاتھا۔ایک دوسرے کے مقابل کے سمندر نہ تھےکہ ان کے ملنے کی جگہ کاالگ نشان نظر آتا۔فَلَمَّا جَاوَزَا قَالَ لِفَتٰىهُ اٰتِنَا غَدَآءَنَا١ٞ لَقَدْ لَقِيْنَا مِنْ پھر جب وہ(اس جگہ سے )آگے نکل گئے تواس نے اپنے نوجوان (رفیق ) سے کہا (کہ)ہماراصبح کاکھانا ہمیں سَفَرِنَا هٰذَا نَصَبًا۰۰۶۳ دے ہمیں یقیناً اپنے اس سفر کی وجہ سے تکان ہوگئی ہے۔حلّ لُغَات۔غَدَاءَ نا۔اَلْغَدَاءُ کے معنے ہیں طَعَامُ الْغُدْوَۃِ۔صبح کاکھانا(اقرب) نصبًا۔نَصَبٌ کے معنے تھکان کے ہیں۔مزید تشریح کے لئے دیکھو حجر آیت نمبر ۴۹۔نَصَبٌ نَصِبَ(یَنْصَبُ) کا مصدر ہے۔اورنَصِبَ الرَّجُلُ کے معنی ہیں اَعْیَا۔تھک گیا (لازم)نَصِبَ فِی الْاَمْرِ:جَدَّ وَاجْتَہَدَ۔کسی کام میں کوشش اورمحنت کی (اقرب)پس النَّصَبُ کے معنے ہوں گے تکان۔تفسیر۔یہ ضروری نہیں کہ ان تمام واقعات کی تعبیر ہی کی جائے۔کیونکہ بعض دفعہ کشف کی صورت میں بعض ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جوصرف رؤیا کوایک مکمل نظار ہ کی صورت دینے کے لئے شامل کئے جاتے ہیں۔