تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 561

بنی اسرائیل یعنی موسوی سلسلہ کے لوگوں کی عبادات خدا تعالیٰ کے حضو ر میں مقبول نہ رہیں گی۔اورمحمد رسو ل اللہ کی امت کی عبادتیں ہی مقبول ہوں گی اورعبادت اورصلاحیت کے جوآثار ہیں موسوی سلسلہ کے لوگوں سے غائب ہوجائیں گے اورنَسِيَا حُوْتَهُمَا کہہ کر یہ بتایا ہے کہ خالص اسرائیلی قوم توا س وقت سے پہلے ہی صحیح عبادت اورتقویٰ کوکھوچکی ہوگی۔صرف وہی قوم عبادت اورصلاحیت اپنے اندررکھتی ہوگی جوصرف موسی کی قوم نہیں کہلاسکتی۔بلکہ موسیٰ اور اس کے فتی کی قوم کہلاسکے گی یعنی حضرت مسیح کے آنے کے بعد مسیحیوں میں عبادت رہ جائے گی۔بنی اسرائیل اس سے محروم ہوجائیں گے۔لیکن چونکہ حضرت مسیح حضرت موسیٰ کے سلسلہ ہی کے نبی ہوںگے۔اس لئے ان کی حوت بھی ایک رنگ میں موسیٰ کی حوت ہوگی۔اس لئے وہ دونوں کی طرف منسوب ہو گی۔مگر مجمع البحرین کا مقام آئے گا تواس قوم کے ہاتھ سے بھی جن کے موسیٰ اورعیسیٰ علیھم السلام مشترک طورپر معلم ہوںگے۔عبادت اورصلاحیت جاتی رہے گی۔اس آیت سے بھی معلوم ہوتاہے کہ یہ کشف تھا۔کیونکہ ظاہر مجمع البحرین توایسی جگہ ہوتی ہے کہ اسے کوئی بھول ہی نہیں سکتا اوراس کے لئے کسی حوت کی علامت کی ضرورت نہیں۔پس یہ روحانی مجمع البحرین ہے جو علامتوںسے سمجھا جاسکتاہے۔کیونکہ ظاہر میں اس کی کوئی علامت نہیںہوتی۔بلکہ لوگ دوسرے بحر کے زمانے میں اس کی مخالفت کرتے اور اسے جھوٹاکہتے ہیں۔اوریہ ماننے کے لئے تیار نہیں ہوتے کہ مجمع البحرین آگیا ہے۔یعنی پہلے نبی کا زمانہ ختم ہوگیا ہے اور دوسرے نبی کا زمانہ شرو ع ہوگیاہے۔اس کی علامت یہی ہوتی ہے کہ پہلے نبی کی قوم کی عبادات اورصلاحیت جاتی رہتی ہے۔اورعقلمند لوگ اللہ تعالیٰ کے سلوک میں اس فرق کو دیکھ کر کہ اب وہ پہلی قوم کی عبادات کی کوئی قد رنہیں کرتا اوردوسری قوم کی عبادتوںکو قبول کرتا اوراس کی دعائوں کوسنتاہے سمجھ جاتے ہی کہ مجمع البحرین آگیا ہے۔اس مضمون کی طر ف قرآن کریم کی ایک اورآیت میں کھلے لفظوں میں بھی اشارہ کیاگیاہے فرماتا ہے۔مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ١ؕ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَيْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا١ٞ سِيْمَاهُمْ فِيْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِ١ؕ ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِي التَّوْرٰىةِ(الفتح :۲۹) یعنی محمد ؐ اللہ کے رسول ہیں۔اوروہ لوگ جو ان کے ساتھ ہی کفار کے مقابل پر بہت سخت ہیں۔اورآپس میں بہت رحم کرنے والے ہیں۔توان کودیکھے گاکہ رکوعوںاور سجدوںمیں لگے رہتے ہیں۔اوراللہ تعالیٰ کے فضل اورا س کی رضاکے متلاشی ہیں۔ان کے مونہوں سے ان کے سجدوں کی قبولیت کے آثار ظاہر ہیں۔یہ ان کی مثال تورات میں بیان ہوچکی ہے۔اس آیت میں صاف