تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 557
’’لَنْ تَرَانِیْ‘‘کہ تومجھے اس صورت میں نہیں دیکھ سکتا۔جس صورت میں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھنا ہے۔کیونکہ اس کے دیکھنے کے لئے محمدی مرتبہ کی ضرورت ہے۔جوتجھے حاصل نہیں۔یہی وجہ تھی کہ ’’لَنْ تَرَانِیْ ‘‘کہہ کر پھر اللہ تعالیٰ نے جلوہ دکھایا۔چنانچہ موسیٰ نے دیکھ لیا کہ واقعہ میں وہ اس جلوہ کے مطابق ظرف نہ رکھتے تھے۔اس وجہ سے وہ اس جلوہ کودیکھتے ہی بےہوش ہوگئے۔میں سمجھتاہوں کہ حضر ت موسیٰ علیہ السلام کو رسول کریم صلعم کی شان اعلیٰ کے دکھانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ کشف دکھایا اوراس کشف کاخضر میرامحمدؐہی ہے جس کے ساتھ چلنے کی موسیٰ علیہ السلام کوطاقت نہ تھی۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلیٰ مُحَمَّدٍ وَعَلیٰ اٰلِ مُحَمَّدٍ وَبَارِکْ وَسَلِّمْ اِنَّکَ حَمِیْدٌ مُجِیْدٌ۔حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ کا جو ان حضرت عیسیٰ ؑ تھے وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِفَتٰىهُ۔فتی کے متعلق روایات میں لکھا کے کہ وہ یوشع بن نون تھے (کشاف زیر آیت ھذا)۔کوئی تعجب نہیں کہ کشف میںحضرت موسیٰ علیہ السلام نے ان کوہی ساتھ دیکھا ہو۔لیکن میری اپنی رائے یہ ہے کہ یہ دوسراشخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے۔جنہوں نے موسوی سلسلہ کے سفرکے آخری دور میں قوم کی راہنمائی کرنی تھی۔اورگویا موسوی سفر کااختتام ان کی معیت میں ہونا تھا۔اس کاثبوت میرے نزدیک اس آیت سے بھی ملتاہے کیونکہ اس آیت میں یہ ذکر نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام گھر سے ایک نوجون کو لے کرچلے۔بلکہ خود ان کے چلنے کابھی ذکر نہیں۔ذکر ہے تویہ کہ موسیٰ نے اپنے آپ کوسفر کی حالت میں دیکھا اوراس وقت ان کے ساتھ ایک نوجوان تھا۔انہو ں نے اس نوجوان سے کہا کہ جب تک میں مجمع البحرین تک نہ پہونچ جائو ں میں اپناسفرختم نہ کروں گا۔خواہ مجھے صدیوں تک ہی کیوں نہ سفرکرنا پڑے۔زمانہ کے لئے جولفظ اس آیت میں استعمال ہواہے۔وہ حُقُب کاہے۔اوریہ لفظ حُقْبٌ کی جمع ہے۔حُقْب کے معنے اسّی سال یااس سے زیادہ سالوں کے ہوتے ہیں۔درحقیقت یہ لفظ عربی میں صدی کاقائمقام ہے۔پس حُقُبٌ جو جمع ہے۔اس کے معنے ہوئے صدیاں۔مگر بعض دفعہ اس لفظ کو ایک سال یاکئی سال کے لئے بھی استعمال کرلیتے ہیں۔اگر یہی معنے لئے جائیں توبھی آیت کے معنے یہ ہوں گے کہ سالوں چلتاجائوں گا۔یایہ کہ دسیوں سال چلتاچلاجائوں گا۔ظاہر ہے کہ ایک نبی کاامت سے سالہا سال تک جدارہنا عقل کے خلاف ہے۔بلکہ خود نبوت کی ضرورت کو مشتبہ کر دیتاہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ ہجرت کرنی پڑی۔توآپؐ نے مکہ سے صحابہ کووہاں بھجوادیا اورپھر خود مدینہ میں بھی آپؐ پر ایمان لانے والے موجود تھے۔پس حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اگر سالہاسال کہا ہے۔تب بھی یہ ثبوت ہے کہ یہ کشف تھا۔اوراگرصدیوں کہا ہے اور میرے نزدیک یہی کہا ہے۔توپھر تویہ قطعی طور پر ثابت ہے۔کہ ان