تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 556 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 556

حضرت خلیفہ اولؓ کے نزدیک عبد سے مراد آنحضرت ؐ تھے وہ شخص جس سے حضرت موسیٰ ؑ اسراء میں سبق لینے گئے تھے۔اس کے متعلق استاذی المکر م حضرت مولوی نورالدین صاحب ؓ کی رائے تھی کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کاوجود متمثل ہواتھا۔میں نے جب اس پرغورکیا۔تومیں بھی اس یقین پر پہنچا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہی حضرت موسیٰ ؑ کو متمثل ہوکر نظر آئے تھے۔اوریہی وجہ تھی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خواہش کی کہ کاش موسیٰ خامو ش رہتے۔توہمیں اورحالات بھی معلوم ہوجاتے۔یعنی ہمیں پتہ لگ جاتاکہ ہمارے ساتھ کیا واقعات پیش آنے ہیں۔آنحضرت ؐ کے زمانہ کے حالات حضرت موسیٰ ؑ پر کشفی طور پر ظاہر ہوئے میرااپنا یہ خیال ہے۔گویہ خیال ایک ذوقی نظریہ ہے کہ جس وقت کوہ سیناء پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حضرت موسیٰ ؑ کو بشارت دی گئی (دیکھو استثناء باب ۱۸آیت ۱۸)اورانہیں معلوم ہواکہ ایک عظیم الشان نبی میرے بعد پیدا ہونے والا ہے۔توان کے دل میں یہ معلوم کرنے کی خواہش پیداہو ئی۔کہ وہ کونسی تجلّی ہوگی جواس نبی پر ظاہر کی جائےگی۔جس پرانہوں نے عرض کیا۔’’رَبِّ اَرِنِيْۤ اَنْظُرْ اِلَيْكَ۔‘‘ذرامجھ پر بھی وہ محمدی تجلّی ظاہر فرما۔تاکہ میں بھی تودیکھو ں۔کہ اس پر توکس شان سے ظاہر ہوگا۔اس کاانہیں یہ جواب دیاگیا۔کہ ایسانہیں ہوسکتا۔ہرشخص اپنے مناسب حال ہی تجلی دیکھ سکتاہے۔میرے اس بیان کی تائیداس سے بھی ہوجاتی ہے کہ حضرت موسیٰ ؑ اس سے پیشتر روحانی تجلی دیکھ چکے تھے۔جیساکہ انہیں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ’’اِنِّيْۤ اَنَا رَبُّكَ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ١ۚ اِنَّكَ بِالْوَادِ الْمُقَدَّسِ طُوًى ‘‘(طہ:۱۳)۔پھر جبکہ و ہ اللہ تعالیٰ کی تجلی دیکھ چکے تھے توان کے اس قول کے کیامعنے ہوئے کہ اے اللہ مجھے اپناآپ دکھا۔اگراس کے یہ معنے کئے جائیں کہ پہلے روحا نی تجلی دیکھی تھی اب وہ اللہ تعالیٰ کواس کی اصل صورت میں دیکھناچاہتے تھے۔تواس کے یہ معنے ہوتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے برگزیدہ نبی کوبیوقوف قرار دیاجائے۔نعوذ باللہ من ذالک۔کیونکہ کسی کایہ کہنا کہ اے خداتومجھے مجسم ہوکرنظرآ۔نادانی کی بات ہے۔اوریہ بات حضرت موسیٰ کی طرف ہر گز منسوب نہیں ہوسکتی۔پس یہ رؤیت کی درخواست روحانی ہی قرار دی جاسکتی ہے۔اور چونکہ موسوی تجلی پہلے ان پر ہوچکی تھی۔اس سے معلوم ہوتاہے کہ اب جو خواہش انہوں نے کی توو ہ کسی اوررؤیت کے لئے تھی۔اور چونکہ اس درخواست سے معاً پہلے انہیں محمدرسول اللہ صلعم کی بشار ت دی گئی تھی۔حضرت موسیٰ ؑ خدا تعالیٰ کی اس تجلی کو دیکھنے کی تاب نہ لاسکے جو آنحضرت ؐ پر ہوئی تھی مَیں یہی قیاس کرتاہوں۔کہ یہ درخواست ان کی محمدی تجلی کے دیکھنے کے بارہ میں تھی۔جس کا جواب اللہ تعالیٰ نے یہ دیا کہ