تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 558
الفاظ کوموسیٰ کے منہ سے نکلواکر اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ موسیٰ کاروحانی سفر یعنی ان کی امت کا زمانہ صدیوں تک ممتدّچلاجائے گا۔مجمع البحرین سے مراد زمانہ اختتام موسیٰ میرے نزدیک اس فقر ہ کے اس جگہ بیان کرنے کی بھی ایک حکمت ہے اورو ہ یہ کہ موسوی سفر کی اس منزل میں جہاں کہ فتٰی آپ کے ساتھ شامل ہونا مقدر تھا۔ایک حصئہ قوم میں یہ خیال پیدا ہونے والاتھا کہ اب موسیٰ کاسفر ختم ہوگیا۔اب اس نوجوان یعنی حضرت عیسیٰ کاسفر شروع ہوگا۔یعنی بعض لوگوں میں یہ شبہ پیدا ہونے والاتھا۔کہ حضر ت عیسیٰ کے آنے سے موسوی شریعت ختم ہوگئی۔اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے نیادین جار ی کیا ہے۔ان الفاظ میں اس شبہ کاازالہ کیاہے اورموسیٰ ؑ کے منہ سے یہ کہلوایاہے کہ ا س نوجوان کے ملنے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کاسفرختم نہیں ہوتا۔بلکہ مجمع البحرین پر یعنی ظہورمحمد صلعم کے زمانہ پر جاکر ختم ہوگا۔گویاعیسیٰ علیہ السلام کے ظہور پر کسی نئے دین کااجراء نہیں ہوگا۔بلکہ وہ موسوی دین کی تائید کریں گے اورموسیٰ کے سفرکوختم کرنے والے نہ ہوںگے۔بلکہ موسیٰ کی نیابت میں ان کے سفرکو پوراکریں گے۔خود حضرت مسیح نے بھی اس امر کی تصدیق کی ہے۔فرماتے ہیں۔’’یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یانبیوں کی کتابوںکو منسوخ کرنے آیا ہوں منسوخ کرنے نہیں بلکہ پوراکرنے آیاہوں ‘‘۔(متی باب ۵ آیت ۱۷) اس کشف سے معلو م ہو تاہے کہ یاتوحضرت موسیٰ نے جب یہ کشف دیکھا تواس کاشروع ہی یہ تھا کہ گویا وہ ایک راستہ پر ایک نوجوا ن کے ساتھ چل رہے ہیں۔اورمنزل مقصود نہ ملنے پر حیران ہیں یایہ کہ اس سے پہلے بھی حصہ کشف کاتھا۔جس میں لمبے سفر کا ذکر تھا مگراس کو بے ضرورت سمجھ کر قرآن کریم نے چھوڑ دیاہے۔کیونکہ وہی آدمی یہ کہہ سکتاہے کہ جب تک مجمع البحرین تک نہ جاپہنچوں چلتاچلاجائوں گاخوا ہ صدیاں چلنا پڑے جو ایک عر صہ تک راستہ تلاش کرکے حیران ہورہاہو کہ منزل مقصود کہاں گئی۔میرے نزدیک یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ نوجوان حضرت مسیح تھے۔جوموسوی سفرکے اختتام کے قریب آکر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ملے اورپھر اس روحانی سفر میں ان کے ہمرکاب ہوگئے۔مجمع البحرین کے ظاہراً کسی مقام پر چسپاں ہونے کی تردید ا س آیت میں جو لفظ مَجْمَعَ الْبَحْرَيْنِ آیاہے یہ بھی اس پر روشنی ڈالتاہے کہ یہ کشفی واقعہ ہے۔کیونکہ مجمع البحرین کسی معروف جگہ کانام نہیں۔اورسوائے اس کے کہ اس کے معنے دوسمندروں کے ملنے کی جگہ کے لئے جائیں اورکوئی معنے ظاہر میں نہیں کئے جاسکتے۔اور