تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 535 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 535

اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا١ۚ وَ الْبٰقِيٰتُ مال اوربیٹے اس ورلی زندگی کی زینت ہیں۔اورباقی رہنے والے نیک (اورمناسب حال )کام (ہی جوان چیز وں الصّٰلِحٰتُ خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلًا۰۰۴۷ سے لئے جائیں)تیرے رب کے نزدیک بدلہ کے لحاظ سے(بھی)بہترہیں۔اورامید کے لحاظ سے (بھی)بہتر ہیں حلّ لُغَات۔اَلْاَمَلُ۔اَلْاَمَلُکے لئے دیکھو رحجر آیت نمبر ۴۔اَ لْاَمْلُ وَالْاَمْلُ اس کی جمع اٰمَالٌ ہے۔اوراَلْاَمَلُ کے معنے ہیں۔الرَّجَاءُ۔امید۔تَاَمَّلْتُ الشَّیْءَ اَیْ نَظَرْتُ اِلَیْہِ مُسْتَثْبِتًالَہٗ۔تَأَ مَّلْتُ الشَّیْءَ کے معنے ہیںاسے غورسے دیکھا۔ٹکٹکی لگا کر دیکھا۔(اقرب) تفسیر۔اس جگہ پر بھی تشریح فرما دی کہ نَبَاتُ الْاَرْضِ سے کیامراد ہے۔پہلی تمثیل میں باغ بیان کرکے اس کی تشریح میں اس صاحب الجنۃ کایہ قول بیان کیاتھا اَنَا اَکْثَرُ مِنْکَ مَالًاوَّاَعَزُّ نَفَرًا کہ میرے پاس مال زیادہ ہے۔اورمیری تعداد بھی زیادہ ہے۔اس جگہ پر نَبَاتُ الْاَرْضِ بیان فرماکر اس کی تعبیر میں فرمایا۔اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِيْنَةُ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا۔جس سے ظاہر ہے کہ جنت سے یہی مراد تھی۔اس آیت میں بتایاہے کہ مال اوراولاد بے شک دنیاکی زینت ہیں لیکن اگرانہیں صحیح طورپر استعمال کیاجائے یعنی دین میں مال خرچ ہو ں۔اوردین کی خدمت کے لئے اولاد لگادی جائے۔توپھر اللہ تعالیٰ ان کوبھی دوام بخش دیتاہے روپیہ خرچ ہو جاتا ہے لیکن اس کانیک اثر باقی رہ جاتا ہے اولاد مرجاتی ہے لیکن ان کا ذکر خیر بھی باقی رہ جاتاہے۔اوران کی وجہ سے ان کے ماں باپ کا ذکر خیر بھی زندہ رہتاہے۔اَلْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ کُلُّ عَمَلٍ صَالِحٍ نیک اوراچھے کام باقیات صالحات کہلاتے ہیں۔آیت خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ الخکے دو معنی خَيْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اَمَلًا اس کے دومعنی ہیں (۱)نیک کام کادنیامیں نتیجہ نکلتاہے اوراس کے متعلق آئندہ بھی اچھی امیدیں ہوتی ہیں۔گویاثواباً دنیاکے نتیجہ کے متعلق ہے۔اور اَمَلًا آخرت کے متعلق ہے۔(۲)ثوابًا سے مراد خود اس عمل کرنے والے کی ذات کے متعلق بہترنتائج کاپیداہونا ہے۔اوراملاًسے مراد آئندہ نسل کے لئے بہترین امیدوںکاہوناہے۔مطلب یہ کہ نیک کاموں کانتیجہ تم کو بھی نیک ملے گا۔اور تمہاری اولادوں کو بھی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ و ہ نیک کی اولاد کوبھی فائدہ پہونچاتاہے۔