تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 534
فَرَّقَتْہُ وَاَطَارَتْہُ وَاذْھَبَتْہُ ہوانے مٹی کواڑاکربکھیردیا (اقرب)پس تَذَرُوْہُ کے معنی ہوں گے اسے ہوائیں اڑاتی ہیں۔مُقْتَدِرًا مُقْتَدِرٌ اِقْتَدَرَ(جوقَدَرَسے نکلاہے )سے اسم فاعل ہے اِقْتَدَرَ عَلَیْہِ کے معنی ہیں قَوِیَ عَلَیْہِ وَتَمَکَّنَ مِنْہُ۔اس پر پوری قدرت پائی۔اس پر قابو پالیا (اقرب)پس مُقْتَدِرًاکے معنی ہوں گے خوب قدرت والا۔تفسیر۔سابق تمثیل کے مضمون کی مزید وضاحت اس زندگی کی مثال میں سابق تمثیل کے مضمون کو ایک اور تمثیل سے واضح فرمایاگیا ہے۔فرماتا ہے کہ دنیوی زندگی پہلے نہایت خوبصورت نظرآتی ہے۔مگراس کاانجام بڑابدنماہوتاہے۔اوراس کے بالمقابل دینی زندگی پہلے بظاہر بدنماہوتی ہے۔مگر اس کاانجام نہایت خوش شکل ہوتاہے۔جب مادی پانی آسمان سے اترتاہے توکسی قدر سبزی اس سے پیداہوتی ہے۔اورٹہنیاں کثرت کی وجہ سے ایک دوسری میں گھسی جاتی ہیں۔لیکن پھر سب سبزہ خشک ہوکر ہوامیں اڑتاپھر تاہے۔لیکن اس کے مقابل پر روحانی پانی سے جوکھیتی تیا رہوتی ہے۔و ہ کبھی بھی خشک نہیں ہوتی۔بظاہر اس مثال پر یہ اعتراض پڑتا ہے۔کہ کھیتی توخشک ہوکر ہی کھانے کے کام آتی ہے۔مگراس جگہ کھانے والے کی تمثیل نہیں دی۔کھیتی کی تمثیل دی ہے۔بتایاہے کہ دنیاوی ترقی کے وقت قومیں بہت لہلہاتی نظر آتی ہیں۔مگرزوال کے وقت ان کوکوئی پوچھتابھی نہیں۔اس کے برخلاف جوقومیں دین کی طر ف توجہ کرتی ہیں۔اگلے جہان میں توان کوعزت ملے گی سوملے گی۔اس دنیا میں بھی ان کی عزت ہمیشہ قائم رہتی ہے۔نوح کی کوئی قوم باقی نہیں۔مگردیکھو نوح ؑ کی آج بھی عزت ہے۔یہی حال ابراہیم کاہے۔یہودی ذلیل ہوئے ہیں مگرموسیٰ کی عزت بدستورہے۔قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی دیناوی فتوحات جاتی رہیں۔لیکن ان کی دینی خدمات کی وجہ سے آج بھی ان میں سے ادنیٰ سے ادنیٰ کے نام پر جانیں قربا ن کرنے والے لوگ موجود ہیں۔