تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 536 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 536

وَ يَوْمَ نُسَيِّرُ الْجِبَالَ وَ تَرَى الْاَرْضَ بَارِزَةً١ۙ وَّ اور(اس دن بھی ان کے بہترنتائج نمودار ہوںگے)جس دن ہم ان پہاڑوں کو (اپنی اپنی جگہ سے)چلادیں گے حَشَرْنٰهُمْ فَلَمْ نُغَادِرْ مِنْهُمْ اَحَدًاۚ۰۰۴۸ اورتوسب (اہل) زمین (کوایک دوسرے کے مقابلہ میں)نکلتاہوادیکھے گا۔اورہم ان (سب)کواکٹھاکریں گے اوران میں سے کسی کو( بھی باقی) نہیں چھوڑیں گے۔حلّ لُغَات۔بَارِزَۃٌ بَارِزَۃٌ بَرَزَ(یَبْرُزُ۔بُرُوْزًا)سے اسم فاعل مؤنث کاصیغہ ہے۔بَرَزَکے معنی ہیں خَرَجَ نکل آیا (اقرب)پس بَارِزَۃٌ کے معنی ہوں گے نکلنے والی۔حَشَرْنٰھُمْ حَشَرْنٰھُمْ حَشَرَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اورحَشَرَ کے لئے دیکھو سورئہ حجرآیت نمبر ۲۶۔حَشَرَ النَّاسَ کے معنے ہیں جَمَعَہُمْ۔لوگوں کو جمع کیا۔وَیَوْمُ الحَشْرِ:یَوْمُ الْبَعْثِ وَالْمَعَادِ وَھُوَ مَأخُوْذٌ مِنْ حَشَرَ الْقَوْمَ اِذَا جَمَعَـہُمْ۔اوریوم البعث کو یوم حشر انہی معنوں کی روسے کہتے ہیں کہ اس دن اگلے پچھلے لوگوںکو جمع کیا جائے گا۔وَالْحَاشِرُ اِسْمٌ مِنْ اَسْمَاءِ نَبِیِّ المُسْلِمِیْنَ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ایک نام حاشر بھی ہے۔(اقرب) لم نغادر نُغَادِرُ غَادَرَ سے جمع متکلم کاصیغہ ہے اورغَادَرَہُ کے معنی ہیں تَرَکَہٗ وَاَبْقَاہُ اس کوچھوڑ دیا اورباقی رکھا (اقرب)پس لَمْ نُغَادِرُ کے معنی ہوں گے کہ ہم باقی نہیں رکھیں گے۔ہم نہیں چھو ڑیں گے۔تفسیر۔جبل کے معنی بڑے آدمی کے بھی ہوتے ہیں اورسیّرکے معنی چلانے کے (اقرب)۔اس جگہ جبال سے مراد بڑے لوگ ہی ہیں۔کیونکہ اس جگہ آدمیوں کا ذکر ہے پہاڑوں دریائوںکا ذکر نہیں۔اوربتایاگیا ہے کہ یہ سب پیشگوئیاںاس دن پوری ہوںگی۔جب بڑے بڑے لوگ جنگوں کے لئے نکل کھڑے ہوں گے۔اورتوساری زمین کو یعنی سب اہل زمین کودیکھے گاکہ جنگ کے لئے ایک دوسرے کے مقابل پر کھڑے ہوجا ئیں گے اورایسی جنگ ہوگی کہ گویا ان میں سے ایک بھی نہ بچے گا۔اس واقعہ کی طرف انجیل میں بھی اشارہ ہے۔حضر ت مسیح فرماتے ہیں کہ آخری زمانہ میں قوم قو م پر اور بادشاہت بادشاہت پر چڑھائی کرے گی۔‘‘(متی باب ۲۴آیت ۷)