تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 533
کرسکیں گے۔هُنَالِكَ الْوَلَايَةُ لِلّٰهِ الْحَقِّ١ؕ هُوَ خَيْرٌ ثَوَابًا وَّ خَيْرٌ اس موقعہ پر مد داللہ (تعالیٰ)کی ہی(مفید)ہوتی ہے۔جومعبودحقیقی ہے۔اور وہ بدلہ دینے میں(بھی)سب سے عُقْبًاؒ۰۰۴۵ اچھا ہے اور(اچھا) انجام (پیداکرنےکی)روسے بھی سب سے اچھا ہے۔تفسیر۔اس آیت سے صاف ظاہرہوگیا۔کہ اس جگہ پیشگوئی کا ذکر ہے۔کیونکہ فرماتا ہے۔اس موقعہ پر حکومت اللہ تعالیٰ ہی کی ہوجائے گی اوروہ ان لوگوں پر فضل کرے گا جواس کے موحد بندے ہوں گے۔اوردنیا کی بجائے آخرت کی طرف توجہ کرنے والے ہوں گے۔وَ اضْرِبْ لَهُمْ مَّثَلَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا كَمَآءٍ اَنْزَلْنٰهُ مِنَ اورتو ان کے سامنے اس ورلی زند گی کی حالت(بھی کھول کر )بیان کر(کہ وہ )اس پانی کی طرح (ہے)جسے ہم نے السَّمَآءِ فَاخْتَلَطَ بِهٖ نَبَاتُ الْاَرْضِ فَاَصْبَحَ هَشِيْمًا بادل سے برسایاپھر ا س میں زمین کی روئیدگی مل گئی۔پھر(آخر)وہ (بھوسے کا)چورابن گئی۔جسے ہوائیں اڑاتی تَذْرُوْهُ الرِّيٰحُ١ؕ وَ كَانَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ مُّقْتَدِرًا۰۰۴۶ (پھر تی) ہیں اوراللہ (تعالیٰ)ہربات پر خوب قدر ت رکھنے والا ہے۔حلّ لُغَات۔اِختلط۔اِخْتَلَطَ کے معنی ہیں اِمْتَزَجَ مل گیا۔(اقرب) الھشیمُ۔ھَشِیْمٌ کے معنی ہیں اَلْمَھْشُوْمُ ٹوٹاہوا نَبْتٌ یَابِسٌ مُتَّکَسِّرٌ خشک شکستہ پودہ یَابِسُ کُلِّ کَلَأٍ وَشَجَرٍ۔ہرخشک گھاس درخت۔(اقرب) تَذْرُوْہُ :تَذْرُوْہُ ذَرَاَسے مضارع مونث غائب کاصیغہ ہے۔اور ذَرَتِ الرِّیْحُ التُّرَابَ کے معنی ہیں