تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 517
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِيْعُ اَجْرَ مَنْ (ہاں)یقیناً جولو گ ایما ن لائے ہیں او رانہوں نے نیک (اورمناسب حال )عمل کئے ہیں(وہ بڑے اجر اَحْسَنَ عَمَلًاۚ۰۰۳۱ پائیں گے )جنہوں نے اچھے کام کئے ہوں ہم ان کااجر ہرگز ضائع نہیں کیا کرتے۔تفسیر۔یعنی اس کے مقابل پر جولوگ خداکے کلام پر ایما ن لائیں گے اورا س ایما ن کے مطابق عمل کریں گے ان کے اجر ضائع نہ ہوںگے یعنی باوجود اس کے وہ ظاہر شان وشوکت سے محروم ہوں گے پھر بھی ان کے اعمال آہستہ آہستہ دنیا میں امن کی صورت پیداکرتے چلے جائیں گے۔اُولٰٓىِٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ ان لوگوںکے لئے دائمی رہائش کے باغات (مقدر)ہیں (ان میں )ان کے (اپنے انتظام کے )نیچے نہریں بہتی يُحَلَّوْنَ فِيْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ يَلْبَسُوْنَ ثِيَابًا ہوںگی ان کے لئے ان میں سونے کے کنگنوں کی قسم کے زیوربنوائے جائیں گے اوروہ باریک ریشم کے اورموٹے خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِـِٕيْنَ فِيْهَا عَلَى ریشم کے سبزکپڑے پہنیں گے۔ان (بہشتوں )میں آراستہ پلنگوں پر تکئے لگائے (ہوئے بیٹھے )ہوں گے۔یہ کیا الْاَرَآىِٕكِ١ؕ نِعْمَ الثَّوَابُ١ؕ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًاؒ۰۰۳۲ ہی اچھا اجر ہے اوروہ بہت ہی اچھا ٹھکانا ہے۔حلّ لُغَات۔یُحَلَّوْنَ حَلَّی سے مضارع جمع مذکر غائب کاصیغہ یَحُلُّوْنَ ہے اوریُحَلَّوْنَ ا س سے مجہول کاصیغہ ہے۔اورحَلَّی الْمرْأَ ۃَ تَحْلِیَۃً کے معنے ہیں اَلْبَسَھَا حُلْیًا۔عورت کو زیور پہنائے (اقرب)