تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 516 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 516

اَلْمُھْلُ۔اَلْمُھْلُ مہل سب معدنیات کو کہتے ہیں مثلاً چاندی لوہے وغیر ہ کو۔(۲)پتلا تیل۔سیّال چیز جس میں جل اٹھنے کامادہ ہوتاہے۔(۳)زہر(۴)پیپ(۵)خصوصاً مردہ کی پیپ(۶)پگھلاہواتانبا (۷)تیل (۸)تلچھٹ یعنی تیل کی میل جواس کی تہ میں بیٹھ جاتی ہے (اقرب) یَشْوِیْ۔یَشْوِیْ شَوٰی سے مضارع ہے اورشَوَی اللَّحْمَ کے معنی ہیں جَعَلَہٗ شِوَاءً گوشت کو بھُونا۔اَلْمَاءَ: اَسْخَنَہُ۔پانی کوگرم کیا (اقرب) مُرْتَفَقًا۔اِرْتَفَقَ الرَّجُلُ:طَلَبَ رَفِیْقًا۔اس نے کسی ساتھی کی تلاش کی۔اِسْتَعَانَ۔مدد مانگی۔اِتَّکَأَ عَلٰی مِرْفَقٍ وَقِیْلَ عَلٰی اَلْمِخَدَّۃِ۔کہنی یاتکیہ پر ٹیک لگائی۔اِرْتَفَقَ الْاِنَا ءُ: اِمْتَلَأَ۔برتن(پانی وغیر ہ سے ) بھر گیا۔اِرْتَفَقَ الْقَوْمُ:تَرَافَقُوْافِی سَفَرٍ۔لوگ سفر میں ایک دوسرے کے رفیق بنے۔اَلْمُرْتَفَقُ اِرْتَفَقَ سے اسم مفعول ہے اس کے معنے ہیںاَلْمُتَّکَأُ۔تکیہ او رسہارالگانے کی چیز (اقرب) تفسیر۔وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ۔توکہہ دے کہ یہ بات جو میں نے بتائی ہے یعنی مسلمانوں کی ترقی اوران قوموں کی تباہی۔یہ ہوکر رہے گی۔اس سے صاف پتہ لگتاہے کہ یہ پیشگوئی ہے۔فَمَنْ شَآءَ فَلْيُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْيَكْفُرْ الآیۃ یعنی دین کے معاملہ میں زبردستی توہے نہیں۔جوشخص جس بات کو چاہے اختیار کرے وہ اپنے عمل کا نتیجہ بھگتے گامگراسے جبراً نہیں منوایاجائے گا۔اس میں اس طر ف اشارہ ہے کہ وہ جہاد کا زمانہ نہ ہوگا۔بلکہ تبلیغ کا زمانہ ہو گا۔لوگوں کے سامنے صداقت رکھنا مسلمانوں کافرض ہوگاآگے کوئی مانے یانہ مانے۔کسی سے جنگ کرنی جائزنہ ہو گی۔یورپین اقوام کی تباہی جنگ کے ذریعہ مقدر ہے چونکہ یہ سوال ہوسکتاتھا کہ اگر جنگ اورجہاد نہ ہوگا تو مسلمانوں کی کمزورحالت کس طرح بدلے گی۔ا س کا جواب یہ دیا کہ ہم اس کے سامان خود پیداکریں گے اور یوروپین اقوام کوجنگ کا عذاب گھیر لے گا۔اورگویا جنگ ان کے گھروں کے گرد خیمے لگالے گی۔اورجس قد روہ امن کے لئے کوشش کریں گے اورامن امن کہہ کر چلّائیں گے۔اسی قدر پگھلتاہوالوہا اورتانبہ ان کے مونہوں پر ڈالاجائے گا۔یعنی امن کی پکار توہو گی لیکن نتیجہ توپوں کے گولے اوربم ہی نکلے گا۔اوران کے ملک رہائش کے قابل نہ رہیں گے۔بلکہ براٹھکانہ بن جائیںگے۔اِرْتَفَقَ کے معنے تعاون اوررفاقت کے بھی ہوتے ہیں ان معنوں کے روسے معنے یہ ہوں گے کہ قومیں امن کی خاطر دوسری قوموں سے دوستیاں کریں گی۔لیکن ان دوستیوں کانتیجہ جنگ ہی نکلے گانہ کہ صلح۔