تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 518 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 518

ثیابًا:ثِیَابًا ثَوْبٌ کی جمع ہے اورثَوْبٌ کے معنے ہیں۔اَللِّبَاسُ مِنْ کِتَّانٍ وَقُطُنٍ وَصُوْفٍ خَزٍّوَ فِرَاءٍ۔روئی۔اون۔ریشم۔پوستین وغیرہ کے کپڑے (اقرب) سُندُس سُنْدُسٌ کے معنے ہیں نہایت باریک اور نفیس ریشمی کپڑا یادیبائے نازک۔اورکلیا ت میں اس کے معنی ریشمی گدیلے اوربسترو ں کے کئے ہیں (اقرب) اِستبرق اِسْتَبْرَقٌ:اَلدِّیْبَاجُ الْغَلِیْظُ۔موٹاریشم۔اسے معرّب یعنی غیر عربی زبان کاقرار دیاگیا ہے۔(اقرب) اَلْاَرَائِکُ۔اَلْاَرَائِکُ اَرِیْکَۃٌ کی جمع ہے اوراَرِیْکَۃٌ کے معنے ہیں۔سَرِیْرٌ مُنَجَّدٌ مُزَیَّنٌ فِی قُبَّۃٍ اَوْبَیْتٍ۔ایسا مزین تخت جوکسی قبّہ یاخیمہ میں لگایا گیاہو (اقرب) تفسیر۔سونے کے کڑے اور ریشمی کپڑے پہننے سے مراد سونے کے کڑوں پراعتراض ہوتاہے کہ مردوں کے لئے سونے کے کڑے پہننے ناجائز ہیں۔ا س کا جواب یہ ہے کہ اگر تواس سے مرا د دنیاہو تواس سے مراد یہ لی جائے گی کہ ان کو بادشاہتیں ملیں گی۔سونے کے کنگن پہننے سے مراد بادشاہت ہے۔پرانے زمانہ میں سونے کے کنگن بادشاہ پہنا کرتے تھے۔پس یہاں بتایا ہے کہ مسلمانوں کوبادشاہ بنایاجائے گااوراگر اس سے مراد اگلاجہان ہوتواس جہاں کی ہرشے روحانی ہے۔وہاںسونے کے کڑوں سے مادی سونے کے کڑے مراد نہیں ہوسکتے۔بلکہ خاص قسم کے اعزازمراد لئے جائیں گے۔مِنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍیعنی جیسے ریشمی کپڑا پہننے سے آرام اورلذت محسوس ہوتی ہے۔اسی طرح وہاں بھی ایسالباس ملے گاجس سے لذت اورآرام محسوس ہوگااوراس کے یہ معنے بھی ہوسکتے ہیں۔کہ یہ چیز یں جن کے لائق ہوں گی ان کو پہنائی جائیں گی۔جیسے حضرت عمرؓ کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ریشمی کپڑادیاتوانہوں نے کہا یارسول اللہ مجھے آپ نے یہ کیسے دیا۔مردوں کے لئے توریشم پہننا ناجائز ہے اس پر آنحضرت صلعم نے فرمایا تم اسے اپنی بیوی کو پہناسکتے ہو (مسلم کتاب اللباس والزینۃ باب تحریم لبس الحریر و غیر ذالک للرجال)۔نِعْمَ الثَّوَابُ وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۔یعنی قرآن کریم پر سچاایمان لانے والوں کو جوانعامات ملیں گے وہ تباہی کی طرف نہ لے جائیں گے بلکہ ان کے نتیجہ میں امن اوراطمینان پیدا ہوگا اورحَسُنَتْ مُرْتَفَقًاسے یہ بتایا کہ قرآنی تعلیم پر چل کر جودوستیاں اوررفاقتیں ہوں گی و ہ چونکہ اخلاص پر مبنی ہوں گی اورذاتی اغراض ان کے پیچھے پوشیدہ نہ ہوںگی۔ان دوستیوں کے نتیجہ میں لڑائیاں نہیں ہو ں گی بلکہ امن حاصل ہوگا۔