تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 484 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 484

داستان کاایک مختصر نقشہ ہیں۔روم کے کیٹاکومبز کے تاریخی حالات اب میں کہف کے بارے میں مختصراً بعض واقعات بتاتاہوں۔جیسا کہ میں بیا ن کرچکا ہوں کہف سے مراد کیٹاکومبز ہیں جوزمین دوز تہ خانوں کانام ہے۔رومیو ںاوریہود میں رواج تھا کہ وہ مردوں کو کمروں میں رکھتے تھے۔رومی حکومت کے بڑے بڑے شہرو ںمیں شہروں سے باہر ایسی جگہیں بنی ہوئی تھیں اورکیٹاکومبزکہلاتی تھیں۔جب مسیحیوں پر ظلم ہوئے توانہوںنے جان بچانے کے لئے ان قبرستانوں میں پناہ لینی شروع کی جس کی دو وجہیں معلوم ہوتی ہیں۔ایک تویہ کہ زمین دوز کمروں میں وہ آسانی سے چھپ سکتے تھے۔اوربیٹھنے۔سونے اورموسم کی شدت سے محفوظ رہنے کابھی سامان ہوتاتھا۔دوسر ے اس لئے بھی کہ عام طور پر لوگ قبرستانوں سے ڈر تے ہیں۔اوراس طرح لو گوں کی نظروں سے بچنے کاوہاں امکان زیادہ تھا۔یہ کیٹاکومبز روم کے پاس۔اسکندریہ جومصر کاشہر ہے اس کے پاس۔سسلی میں۔مالٹامیں۔نیپلز کے پاس اس وقت تک دریافت ہوئے ہیں (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ Catacombs)۔مسٹر بنجمن سکاٹ اپنی کتا ب’’د ی کیٹاکومیز اَیٹ روم ‘‘میں لکھتے ہیں۔کہ’’میری رائے ہے کہ اس ابتدائی زمانہ میں بھی(جب پولو س روم گیا ہے)عیسائی اپنی حفاظت کے خیال سے لوگوںکے غصہ اور یہودیوں کے ظلموں اوررومی حکومت کے مظالم سے بچنے کےلئے ان تہ خانوں میں پنا ہ لیا کرتے تھے ‘‘۔(ص ۶۳)پھر و ہ ذراآگے چل کرلکھتے ہیں۔’’وہ یقیناً مجبور تھے کہ ان گڑہوں اورزمین دوز غارو ں میں پنا ہ لیتے ‘‘۔اس جگہ مصنف نے ان تہ خانوں کے لئے کیو ( CAVE ) کالفظ استعمال کیا ہے۔جو عر بی زبان کے لفظ کہف کا ہی بگڑاہواہے۔گویا اس طرح اس انگریز مصنف نے عین وہی لفظ استعمال کردیا ہے جوقرآن کریم نے کیا ہے۔یہ کہ ان کوایساکرنے کی ضرورت تھی رومی مؤرخ ٹسیٹس TACITUS کی شہادت سے ثابت ہو جاتا ہے۔وہ کہتاہے کہ نیرو نے لوگوں کو خوش کرنے کے لئے مسیحیوں کوزندہ جلانے۔کتوں سے پھڑوانے۔اورصلیب دینے کے مختلف طریق اختیار کررکھے تھے۔اورا س غرض سے اس نے اپناشاہی باغ دیاہواتھا۔جس قوم پراس قدر اورعام ظلم ہوگا۔ظاہر ہے کہ وہ ادھر ادھر بچ کر پناہ لے گی(The Aunals and the histories p۔257۔258)۔جب مسیحیو ں نے ان جگہوں پر پنا ہ لینی شروع کی توپنا ہ کے دنوں میں انہوں نے زیاد ہ حفاظت کی خاطران کے اندراورکمرے بنانے شروع کردئے۔اسی طرح جو لوگ شہید ہوتے تھے ان کی لاشوں کوبے حرمتی سے بچانے کے لئے بھی و ہ ان تہ خانوں میں لاکردفن کرتے تھے۔اور چونکہ یہ سلسلہ تین سوسال تک چلاگیا۔اس لئے یہ تہ خانے اس کثرت سے ہوگئے کہ بعض لوگوںکے اندازے کے مطابق وہ پندرہ میل کی لمبائی تک چلے گئے ہیں۔