تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 485
چونکہ ظلم یکسا ں نہیں چلتا۔درمیان میں بعض باد شا ہ نرمی کرنے لگ جاتے تھے اور مسیحی پھر واپس شہر میں آجاتے تھے۔پھر جب سختی کادور آتا توبھاگ کر ان جگہوں میں چھپ جاتے۔اورمعلوم ہوتا ہے کہ بعض دفعہ انہیں وہاں مہینوں یا سالوں رہنا پڑتاتھا۔کیونکہ ان کے اندر سکولوں اورگرجوں کی کمرے بھی پائے گئے ہیں۔کیٹاکومبز کے چشم دید حالات یہ تہ خانے تین منزل میں بنے ہوئے ہیں۔اور ۱۹۲۴ ء میں انگلستان جاتے ہوئے رو م میں میں نے خود ان کواپنی آنکھ سے دیکھا ہے۔پہلی منزل کے کمروں کو توانسان بغیر زیادہ تکلیف کے دیکھ سکتا ہے۔دوسر ی منز ل میں بہت دم گھٹتاہے۔اورتیسری منز ل یعنی سب سے نیچے کے تہ خانہ میں جاناتونمی اورتاریکی کی وجہ سے قریباً ناممکن ہوتاہے۔میں نے دیکھا ہے کہ ان تہ خانوں کو مسیحیوں نے اپنی ضرورت کے مطابق اس طرح بنا لیا تھا جیسے بھول بھلیا ںہوتی ہیں۔اورحفاظت کے مندرجہ ذیل طریق ان میں استعمال کئے گئے ہیں۔(۱)و ہ لوگ دروازو ں پر کتے رکھتے تھے تااجنبی آدمی کے آتے ہی ان کواس کے بھونکنے سے علم ہوجائے (۲)زمین دوز کمرے جن میں وہ رہتے تھے جہاں سے ان میں زمین کی سطح پر سے داخل ہونے کاراستہ تھا۔وہاں مٹی کی سیڑھی نہ ہوتی تھی۔بلکہ لکڑ ی کی سیڑھی رکھتے تھے تاکہ اپنا آدمی اترنے کے بعد وہاںسے سیڑھی ہٹادی جاسکے اورتاکہ دشمن آئیں توفوراًکمروں میں نہ پہنچ سکیں۔(۳)لیکن اگر وہ کود کر یاسیڑھیاں اپنے ساتھ لاکر اترہی آئیں۔تواس کے آگے حفاظت کایہ علاج کیا گیاتھا کہ ہرکمرہ سے چار راستے بنادیئے گئے تھے۔ان میں سے ایک راستہ تواگلے کمرہ کی طرف جاتاتھا اورباقی راستے کچھ دور جاکر بندہوجاتے تھے۔اس کایہ فائدہ تھاکہ عیسائی توواقف ہونے کی وجہ سے جھٹ اگلے کمرے کی طرف دوڑ جاتے تھے اورتعاقب کرنے والے غلط راستہ کی طرف چلے جاتے اور آگے راستہ بند دیکھ کر پھر دوسرے راستہ کی طرف لوٹتے۔اس طرح بار بار غلط راستوں کی طرف جانے کی وجہ سے بھاگنے والے عیسائیوں سے بہت پیچھے رہ جاتے۔اول تویہ تعاقب ہی پولیس کو پریشان کردیتاتھا۔لیکن اگرآخری حد تک تعاقب کربھی لیتے تو(۴)مسیحی دوسری منزل یعنی نچلے تہ خانوں میں چلے جاتے جوپہلوں سے زیاد ہ تنگ زیادہ تاریک اور زیادہ پیچید ہ ہیں اگربالفرض یہاں تک بھی کامیاب تعاقب کیاجاتا تو(۵)ان سے نیچے تیسرے تہ خانے موجود تھے۔جن میں ہم لوگ تودوچار منٹ بھی نہیں ٹھیرسکے۔گواس کی ایک وجہ یہ بھی تھی۔کہ اب وہ گر کر بہت زیادہ نمناک ہو گئے ہیں۔مگر بہرحال وہ بھیانک جگہیں ہیں جہاں غالباً صرف تعاقب کے وقت میں تھوڑی دیر کےلئے مسیحی پنا ہ لیتے تھے۔چونکہ سارے راستوں کی لمبائی کئی سومیل تک جاتی ہے۔ظاہر ہے کہ ان جگہوں میں عیسائیوں کاپکڑنا آسان کام نہ ہوتاتھا۔مگرگورنمنٹ آخر گورنمنٹ ہوتی ہے کئی دفعہ پولیس پکڑ بھی لیتی