تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 483 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 483

پھر تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ ۳۱۱ ؁ ء میں گالیس بادشاہ روم نے مرتے وقت مسیحیوں کے خلاف جوقانون تھا اسے منسوخ کیا(دی ہسٹورین ہسٹری آف دی ورلڈ زیر عنوان The age of diocletian and constantine) قسطنطین شاہ روم ۳۳۷ ؁ ء میں عیسائی ہوا۔اورتھیو ڈوسیس مشرقی رومی حکومت کے وقت میں مسیحیت بہت پھیل گئی اورپبلک کی طرف سے بھی اسے امن حاصل ہوگیا (انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ کونسٹنٹائن)۔ان تاریخی شواہد سے ہم پریہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ہیروڈیٹس کے واقعہ سے فلسطین میں اورنیروکے زمانہ سے لےکر ۳۱۱ ؁ ء تک روم میں مسیحیوں پرسخت ظلم ہوئے اوریہ کہ مظالم کے زمانہ میں وہ وہا ں سے بھا گ کر ادھر ادھر غاروں میں پناہ لیا کرتے تھے۔اصحاب کہف ابتدائی زمانہ کے رومی مسیحی تھے ان واقعات پر نظر ڈال کر ہم کو آسانی سے سمجھ میں آسکتا ہے کہ اصحاب کہف ابتدائی زمانہ کے رومی مسیحی تھے۔نیز سینکڑوں سال تک ان پر ظلم ہوتارہا۔جس کی ابتداایک مسیح کے حواری کے زمانہ میں ہوئی ڈیسیس کے زمانہ میں ظلم انتہاکوپہنچا اورگالیس کے زمانہ میں ان کو معاف کیاگیا قسطنطین کے زمانہ میں ان کے مظالم قانونی طو ر پرروکے گئے اور تھیوڈسیس کے زمانہ میں انہیں عام ترقی حاصل ہوگئی۔اب اگر ان واقعات کی روشنی میں مفسرین کی روایات کودیکھیں تواس مبالغہ کو نظر انداز کرکے جومسیحی اور یہودی راویوں نے کئے ہوں گے وہ روایات اصحاب کہف کاصحیح پتہ ہمیںدےدیتی ہیں او ران میں اختلاف بھی کوئی نہیں۔اختلا ف صرف اس وجہ سے معلوم ہوتاتھا کہ لوگ اصحاب کہف کے واقعہ کوکسی ایک جماعت کاواقعہ سمجھتے تھے۔لیکن یہ واقعہ درحقیقت ایک جماعت سے یا ایک زمانہ میں نہیں گذرا۔بلکہ کئی جماعتوں سے مختلف زمانوں میں گذرا ہے۔یہ واقعہ نیروکے وقت میں بھی ہواجبکہ پطرس روم میں موجود تھے۔اورابن اسحاق کی روایت اسی وقت کے متعلق ہے اوریہ واقعہ ڈسیس کے وقت میں بھی ہو ا۔اورابن المنذر کی روایت اس کے متعلق ہے۔معلوم ہوتاہے کہ چونکہ تین سوسال تک مسیحیوں پرظلم ہوتارہااور وہ ظلم کے خاص ایام میں غاروں میں چھپ کر گذاراہ کیا کرتے تھے۔ان کی قربانیوں کے کئی واقعات لو گوں میں مشہور ہوگئے تھے۔کسی کوپطرس کے زمانہ کاواقعہ معلوم ہواتواس نے سمجھ لیا کہ اصحاب کہف کا واقعہ بس اتنا ہی ہے۔کسی کوڈسیس کے وقت کا کوئی واقعہ معلوم ہوا تو اس نے سمجھ لیا کہ یہی واقعہ اصحاب کہف کا ہے۔غرض مختلف زمانوں کے مظالم اور مسیحیوں کی قربانیوںکی داستانوں کو مظالم کی ساری تاریخ قراردینے سے اختلاف پیداہواہے۔جب روایات کو مختلف واقعات سمجھا جائے توپھر عام مبالغہ کوخارج کرکے جوایسی روایات میں ہو جایاکرتا ہے۔و ہ سب ہی روایات درست معلوم ہوتی ہیں اورابتدائی مسیحیوں کی پُردرد