تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 482
ہوجاتی ہیں۔اورو ہ اس طرح کہ کیٹاکومبزاورکلیسیا کی تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتاہے کہ فرداًفرداًمسیحیوں پر ظلم تو حضرت مسیح کے واقعہ صلیب سے شروع ہواتھا۔مگربحیثیت جماعت نیروکے زمانہ سے روم میں مسیحیوں پر ظلم شروع ہوئے ہیں۔اورنیروبادشاہ حواریوں کاہم عصر ہے۔اس کا زمانہ حکومت ۵۴ بعد مسیح سے ۶۸ بعد مسیح تک ہے (انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا زیر لفظ NERO)۔پرانے عیسائیوں میں یہ عام خیال پایا جاتاہے کہ پطرس کواس کے زمانہ میں پھا نسی دیاگیا۔ہمیں کوئی شک نہیں کہ جدید ناقدین تاریخ جو ہرتاریخی واقعہ میں شک پیداکرنے کی کوشش کرتے ہیں انہوں نے اس بار ہ میں شک پیداکرنے کی کوشش کی ہے۔لیکن پوری تنقید کے بعد بھی وہ اسے رد نہیں کرسکے کہ پطرس روم گیااوروہاں ہی مرا۔پرانے مسیحی لٹریچر سے قریباً ۱۷۷ ء بعد صلیب کی ایک تحریر بشپ ڈایو ینسیس کی ملتی ہے جوپیٹر کے روم جانے کی خبر دیتی ہے۔چونکہ پطرس واقعہ صلیب کے بعد ستاسٹھ سے ستر اسی سال تک زندہ رہا ہے یہ تحریر کوئی اسی سے سوسال تک پطرس کی وفات کے بعد لکھی گئی ہے اوراتنے قریب کے زمانہ کی شہادت معمولی شہادت نہیں ہوسکتی۔خصوصاًجبکہ اس کالکھنے والا گرجے کا بڑاپادری ہے ( انسائیکلو پیڈیا ببلیکا زیرلفظ Simon peter) اصحاب کہف کے واقعہ کا تعلق روم کے ملک سے ہے انسائیکلو پیڈیا برٹینیکا میں لکھا ہے کہ یہ امر تاریخ سے ثابت ہے کہ واقعہ صلیب کے دوسوسال کے بعد کے زمانہ میں روم میں پیٹرکی قبر زائروں کو دکھائی جاتی تھی اوریہ کہ ۲۵۸ ء میں اس کی ہڈیا ں کیٹاکومبزمیں منتقل کی گئی تھیں۔یہ کہ واقعہ میں و ہ قبر اورہڈیاں پیٹر کی تھیں یانہیں (زیر لفظ Simon peter)۔انسائیکلو پیڈیا برٹینیکااس بارہ میں لکھتاہے کہ اس کی تحقیق کاسامان ہمارے پاس موجود نہیں۔مگر یہ ظاہر ہے کہ جوسامان اَورباتوں کی تحقیقات کے ہیں وہ یہاں بھی ہیں۔قریب زمانہ کے لوگ اس واقعہ کو بیا ن کرتے ہیں اوراس کی وفات کے صر ف سواسوسال کے بعد کے زمانہ کاتاریخی ثبوت موجود ہے۔کہ روم میں اس کی قبر دکھائی جاتی تھی۔غرض یہ امر کہ اسے نیرو نے قتل کیا یانہ کیا۔اگر ثابت بھی نہ ہو تب بھی یہ امر ثابت ہے کہ پطرس روم میںگیا اور وہیں مرا اوریہ کہ اس زمانہ میں مسیحیوں پر سختیاں ہوتی تھیں اوران کو ادھر ادھر بھاگ کر جانیں بچانی پڑتی تھیں۔(سٹوری آف روم مصنفہ مسٹر ناروڈینگ)۔پھر ہم کو تاریخ سے یہ بھی معلوم ہوتاہے کہ ڈیسس یادقیانوس کے زمانہ میں مسیحیوں پر سختیاں بہت بڑھ گئی تھیں اورقانون بناکر انہیں سزادی جاتی تھی۔اورجوبتوں کو سجدہ نہ کرتے تھے ان کو مسیحی سمجھ کر قید یاقتل کیا جاتا تھا۔(انسائیکلوپیڈیا برٹینیکا زیر لفظ ڈیسیس نیز زیر لفظ تاریخ کلیسیا) ، ڈیسیس کا زمانہ حکومت ۲۴۹ ء ۲۵۱ء تھا۔اوراس نے ۲۵۰و ۲۵۱ ء میں مسیحیوں کے خلاف سختی کے قانون پاس کئے تھے۔