تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 481 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 481

یہ ظلم اس کتاب کے بیان کے مطابق صدیوں تک ہوتارہااورجب ظلم زیادہ ہوتاوہ لو گ ان مقامات میں جاکر چھپ جاتے اورخفیہ طورپر رسد جمع کرکے وہاں رہتے۔حتی کہ بعض دفعہ انہیں کئی کئی سال تک وہاں چھپنا پڑاآخرتین سوسال کے بعد جب روم کا ایک بادشاہ عیسائی ہوگیا۔توعیسائیوں کی تکلیف دورہوئی ا س کے بعد گاتھ قوم نے روم پر حملہ کیا اوران تہ خانوں کو لوٹ لیا اورتوڑ دیا جس کی وجہ سے آہستہ آہستہ ان کا ذکر مٹ گیا۔مگرآثار قدیمہ کے بعض محققین نے روم کے کھنڈرات کی تلاش کرتے ہوئے ان کومعلوم کیااورایک ہزار سال بعد پھر یہ چھپاہواتاریخی مواد دنیا کومعلوم ہوا۔میں نے جب یہ کتاب پڑھی تومیں نے یہ سمجھا کہ ہماری تفسیروں میں جو اموربیان کئے گئے ہیں گووہ بہت کچھ رطب و یابس پر مشتمل ہیں مگر ان واقعات کی موجودگی میں انہیں اصل واقعہ سے کلی طو رپر مختلف نہیں کہا جاسکتااورمیں نے نئے سرے سے تفسیروں کے بیا ن کردہ واقعات پر غور کیا چنانچہ میں نے اوپر جو تین روایات بیان کی ہیں۔ایک ابن اسحاق کی اوردوکتب احادیث کی ان کو دیکھ کرمیں نے محسوس کیا کہ صداقت کابیج ان روایا ت میں موجود ہے۔تفصیلی واقعات جن کا ذکر اصحاب کہف کے متعلق روایات میں آتا ہے اگر اس تفسیر کو پڑھنے والے ایک دفعہ پھر ان روایات کو پڑھ کر دیکھیں گے توانہیں معلوم ہوگا کہ ان روایا ت میں یہ امور بیان ہوئے ہیں (۱) یہ واقعہ مسیحیوں کی ایک قوم سے گذراہے (۲)یہ مظالم رومیوں کے ہاتھ سے ہوئے ہیں (۳)ایک روایت کہتی ہے کہ ایک حواری رومی بادشاہ کے دارالحکومت میں گیا تھا اس وقت وہاں یہ واقعہ گذراہے (۴)دوسری روایت کہتی ہے کہ دقیو س جس کادوسرانام عربوں اورہندوستانیوں میں دقیانو س بھی مشہور ہے۔اورجسے لاطینی میں دسیس DECUIS کہتے ہیں۔اس کے زمانہ میں اصحاب کہف کاواقعہ ہواہے اوراس سے ڈر کرکچھ مسیحی غار میں چلے گئے تھے (۵)سب روایات متفق ہیں کہ وہ قو م جس نے مظالم کئے تھے بت پر ست تھی۔(۶)ایک روایت جسے میں نے لکھا نہیں یہ بھی کہتی ہے کہ اس ملک کے بادشاہ اپنے بتوں کے آگے سجدہ کرنے اوران پر قربانیاں چڑھانے کے لئے مجبورکرتے تھے (۷)حضرت ابن عباسؓ کی روایت بتاتی ہے کہ ان کے زمانہ سے تین سوسال پہلے یہ واقعہ گزراہے (۸)ایک روایت بتاتی ہے کہ تندوسیس کے زمانہ میں اصحاب کہف غار سے باہر نکلے تھے یہ تندوسیس بھی ایک رومی بادشاہ تھا۔اوراس کانام لاطینی میں THEODOSIS لکھتے ہیں۔کیٹاکومبز کی تاریخ پڑھنے کے بعدیہ روایات بجا ئے ہمارادماغ پریشان کرنے کے ہماری رہنمائی کاموجب