تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 448 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 448

وَ قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ لَمْ يَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ اور(سب دنیا کوسناسنا کر)کہہ(کہ )کامل تعریف اللہ(تعالیٰ)کے لئے (ہی )مخصوص ہے جو نہ (تو)اولاد رکھتا شَرِيْكٌ فِي الْمُلْكِ وَ لَمْ يَكُنْ لَّهٗ وَلِيٌّ مِّنَ الذُّلِّ وَ كَبِّرْهُ ہے اورنہ حکومت میں اس کاکوئی شریک ہے اورنہ (اس کے )عجز کی وجہ سے اس کاکوئی دوست (بنا)ہے۔(بلکہ جو تَكْبِيْرًاؒ۰۰۱۱۲ بھی اس کادوست ہوتاہے اس سے مددلینے کے لئے ہوتاہے )اوراس کی خوب (اچھی طرح)بڑائی بیان کر۔تفسیر۔اس میں اسراء کے انجام کی خبر دی ہے یعنی و ہ خدااپنے اس وعد ہ کوضرو رپوراکرے گا۔اوراسی واحد لاشریک خدا کی تعریف کے گیت گائے جائیں گے اگراس کاکوئی بیٹاہوتا جیساکہ بیت المقدس والوں کاخیال ہے تو مسلمانوںکو کس نے پوچھنا تھا ایسا ہی اگراس کے شریک ہوتے جیسا کہ مکے والے کہتے ہیں تومسلمانوں کوحکومت کو ن دیتایعنی یہ دونوں قومیں جو مشرک ہیں مسلمانوں کی دشمن تھیں اگرشرک صحیح ہوتا تومسلما ن دنیا میں ہرگز کامیاب نہ ہوسکتے۔لیکن جب اس خدا نے باوجودانتہائی کمزوریوں کے مسلمانوں کو ان سب پر غالب کردیا تویقیناً سمجھا جائے گاکہ وہ خداواحد اورلاشریک ہے۔مِنَ الذُّلِّ دوست دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک دوست جو رحم کی وجہ سے اوراحسان کرنے کے لئے بنایا جاتاہے ایسے دوست اللہ تعالیٰ کے ہوتے ہیں یہ اس کی شان کے خلاف نہیں دوسرے و ہ دوست جو امداد اورموقعہ پر کام آنے کے لئے بنائے جاتے ہیں۔ایسے دوست اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہیں۔مسلمانوں کی ترقی شرک کی تردید ہے كَبِّرْهُ تَكْبِيْرًا کہہ کرسور ۃ کو ختم کیا گیاہے۔اوراس میں گویا پھر اس امر کی طرف اشار ہ کیا ہے کہ مسلمانوں کو اہل کتاب پر غلبہ ملے گااورجس طر ح اہل مکہ پر غلبہ بتوں کے جھوٹے ہونے کی علامت ہو گااہل کتاب پر غلبہ ان لوگوں کے جھوٹاہونے کی دلیل ہوگا جومسیح ابن اللہ یاعزیرابن اللہ کہتے ہیں اوراس غلبہ کے ذریعہ سے خدائے واحد کی توحید تمام ملک میں پھیلادی جائے گی۔اورخدا کابیٹاماننے والے یااس