تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 447
مختلف صفات الٰہیہ کا تعلق دعا سے قرآن مجید میں اورحدیث میں مختلف دعائیں اوران کے مواقع کا ذکر ہے اس لئے فرماتا ہے کہ فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ہرکام کے لئے اس کے مناسب حال اللہ تعالیٰ کا ایک نام ہوتاہے۔اس کے مطابق دعاکیاکرو۔جب تمہیں رحمانیت کی صفت کو جو ش دلانے کی ضرورت ہو توصفت الرحمٰن کو پیش کرکے دعاکرو۔جب تمہیں رحیمیت۔رزاقیت اوروہابیت کے متعلق کو ئی مشکل درپیش ہو تواللہ تعالیٰ کو ا س وقت اسی نام سے پکارو۔کیونکہ سارے اچھے نام اسی کے ہیں۔جیساموقعہ ہو ویسی ہی قسم کی صفت کے ساتھ دعاکرنی چاہیے۔میراتجربہ ہے کہ اس طریق پر دعانہایت مؤثر ہوتی ہے۔بعید نہیں کہ اس آیت میں یہود کے اسم اعظم والے دعویٰ کابھی جواب دیا گیا ہو۔اوربتایا ہوکہ کسی ایک نام کو اسم اعظم کہنا غلطی ہے۔حصول مقاصد کے لئے خدا تعالیٰ کے اس نام کو لینا چاہیے جوموقعہ کے مناسب ہو۔اوراگر وہ نام ذہن میں نہ آئے تواللہ تعالیٰ کے سب نام ہی بڑے ہیں کسی نام کو لے کر دعاکرلو۔اللہ تعالیٰ تمہارے دل کی کیفیت کو دیکھ کر دعاسن لے گا۔وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۔صلوٰۃ کے معنے نماز کے بھی ہوتے ہیں۔اوردعا کے بھی۔اس جگہ چونکہ دعا کا ذکر ہے اس لئے دعاہی کے معنے زیادہ مناسب ہیں۔فرمایا۔اپنی دعابہت بلند آواز سے نہ مانگاکرو اورنہ ہی بالکل دھیمی بلکہ درمیا ن کاراستہ اختیارکرو۔حدیث میں آتاہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم چند صحابہ کے پاس سے گذرے توآپؐ نے دیکھا کہ و ہ پکارپکار کردعاکررہے تھے۔آپ نے ان کو منع فرمایا اورکہا کہ تمہاراخدابہرہ نہیں ،اس قدراونچے پکارتے ہو و ہ توچیونٹی کے چلنے کی آواز کو بھی سنتا ہے۔قرآن مجید نے بالکل آہستہ دعاکرنے سے بھی منع کیا ہے۔کیونکہ اس سے توجہ قائم نہیں رہتی۔دعااس طرح کرنی چاہیے کہ انسان کو کلمات زبان سے نکلتے ہوئے محسوس ہوں تاکہ اس کی توجہ بھی قائم رہے۔غرض دعابہت بلند آواز سے مانگنے سے تو خدا تعالیٰ کی شان کو مدنظر رکھتے ہوئے منع فرمایا ہے اورنہایت آہستہ دعامانگنے سے انسان کی کمزوری کو مدنظر رکھتے ہوئے منع فرمایا ہے۔