تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 446 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 446

تفسیر۔اس میں مومن کے سجدہ کے وقت کی قلبی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ وہ انابت کے اعلیٰ مقام پرہوتاہے اس کاسجدہ دکھاوے کانہیں ہوتا۔بلکہ جبکہ و ہ سجدہ کررہاہوتاہے اس کے آنسوآپ ہی آپ بہنے لگ جاتے ہیں۔پھر اس میں یہ صفت بھی پائی جاتی ہے کہ عبادت اسے متکبر نہیں بناتی۔بلکہ ا س کاسجدہ کرنااسے خشوع وخضوع میں اوربڑھادیتاہے۔قُلِ ادْعُوا اللّٰهَ اَوِ ادْعُوا الرَّحْمٰنَ١ؕ اَيًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ تو(انہیں )کہہ(کہ )تم(خدا تعالیٰ کو )اللہ(کہہ کر )پکارویارحمٰن(کہہ کر)جو (نام لے کر )بھی تم (اسے) الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى ١ۚ وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ پکارو(پکارسکتے ہو)کیونکہ تمام (بہترسے )بہتر صفات اسی کی ہیں۔اورتُواپنے دعائیہ الفاظ اونچی آواز سے نہ کہا کر بِهَا وَ ابْتَغِ بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۰۰۱۱۱ اورنہ انہیں (بہت) آہستہ کہا کر۔اوراس کے درمیان(درمیان)کوئی راہ اختیار (کیا )کر۔حلّ لُغَات۔لاتجھر۔لَاتَجْھَرَجَھَرَ سے نہی کا صیغہ ہے۔اور جَھَرَ الْکَلَامَ وَبِالْکَلَامِ کے معنے ہیں۔اَعْلَنَہٗ۔کسی بات کااعلان کیا۔جَھَرَ اَلصَّوْتَ:اَعْلَاہُ۔آواز کواونچاکیا (اقرب)پس وَ لَا تَجْهَرْ بِصَلَاتِكَ وَ لَا تُخَافِتْ بِهَا کے معنے ہوں گے کہ تواپنے دعائیہ الفاظ اونچی آواز سے نہ کہا کر اورنہ آہستہ۔لاتُخافِتْ۔لَاتُخَافِتْ خَافَتَ سے فعل نہی ہے اورخَفَتَ سے نکلا ہے۔خَفَتَ اَوْ خَافَتَ بِکَلَامِہِ کے معنے ہیں۔اَسَرَّ مَنْطِقَہٗ۔پوشیدہ بات کی۔خَفَتَ بِصَوْتِہِ :خَفَضَہٗ وَاَخْفَاہُ وَلَمْ یَرْ فَعْہُ بہت ہی آہستہ بولا۔آواز کونیچا کیا۔اوربلند نہ ہونے دیا(اقرب) تفسیر۔سجدہ میں دعا کا طریق پہلی آیات میں چونکہ سجد ہ اورعبادت کا ذکر کیا گیاتھا (جس کی مسلمانوں سے ترقیات کے زمانہ میں امید کی جاتی تھی )ا ب سجدہ میں دعا کاطریق بیان فرماتا ہے کہ ان سجدوں میں اللہ تعالیٰ سے اس کے وعدوں کے پوراہونے کے متعلق اوراپنی اصلاح کے متعلق اس طریق پر دعاکرو۔جو ہم بتاتے ہیں۔اس حکم کی تفصیل یہ ہے۔