تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 445
مل چکا تھا اوروہ اسلام کی سچائی کے قائل ہوچکے ہیں۔و ہ جانتے ہیں کہ آئندہ دنیا کی ترقی قرآن مجید سے ہوگی۔اس جگہ اُوْتُواالْعِلْمَ سے اہل کتاب مراد نہیں ہوسکتے۔کیونکہ وہی تو اس سورۃ میں سب سے اہم مخاطب ہیں۔يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ۔ذَقَنٌ۔ٹھوڑی کوکہتے ہیں۔اورٹھوڑی نیچے کی طرف ہوتی ہے۔پس ٹھوڑی کے لئے گرنے یاٹھوڑی پر گرنے سے مرادنیچے کی طرف جھکنے یا سجدہ کرنے کے ہوتے ہیں۔اظہار خشوع کے لئے اسلامی طریق کا فرق عیسائیوں سے اس آیت میں خشوع و خضوع کے اظہار کااسلامی طریق بتایا گیا ہے۔بعض قومیں مثلاً عیسائی وغیرہ سجدہ کے موقعہ پر نیچے کو جھکتے ہیں۔مگرمنہ کو اوپر کی طرف اٹھاتے ہیں۔چنانچہ عیسائیوں کی تصویروں میں جہاں پر حضرت مسیح یاحضرت مریم کوعبادت کی حالت میں دکھایا ہے۔وہاں پر ان کامنہ آسمان کی طرف دکھایاگیاہے۔وَّ يَقُوْلُوْنَ سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ اِنْ كَانَ وَعْدُ اوروہ کہتے ہیں (کہ )ہمارارب(ہرایک عیب سے )پاک ہے (اوریہ کہ )ہمارے رب کاوعد ہ رَبِّنَا لَمَفْعُوْلًا۰۰۱۰۹ ضرور پوراہوکر رہنے والا ہے۔تفسیر۔اس آیت میں صاف ظاہر کردیا کہ اس سے پہلے مومنوں کے لئے ترقیات کے وعدے دیئے گئے ہیں اور’’اسراء‘‘ کا ذکر صرف ایک خبر ہی نہ تھا بلکہ مومنوں کی اورحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ترقی کاوعدہ تھا۔سورۃ کے شروع میں بھی اسراء کے ذکر پر ’’سُبْحٰنَ الَّذِيْۤ اَسْرٰى ‘‘رکھا اوریہاں بھی ’’سُبْحٰنَ رَبِّنَاۤ ‘‘ فرماکر بتایا کہ اس مقام میں مسلمانوں کی ترقی اورکامیابی کاوعدہ کیاگیاہے۔پھر سُبْحٰنَ کے لفظ سے یہ اشارہ کرنا بھی مقصود ہے کہ مسلمان ضرو رکامیاب ہوں گے اور تم ضرورتباہ و برباد کئے جائو گے کیونکہ اگر ایسانہ ہو تو خدا تعالیٰ کی قدوسیت پرحرف آتاہے۔وَ يَخِرُّوْنَ لِلْاَذْقَانِ يَبْكُوْنَ وَ يَزِيْدُهُمْ خُشُوْعًاؑ۰۰۱۱۰ اوروہ روتے ہوئے ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں۔اوروہ (یعنی قرآن )ان کی فروتنی کو (اوربھی )بڑھاتاہے۔