تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 444

اسی طرح ایک سورۃ کے بعض مضامین کی ضرورت آخرمیں تھی بعض کی شروع میں۔اگرعارضی ضرورت کو مدنظر نہ رکھاجاتا توسالہا سال تک مسلمان کفار کوصحیح جواب نہ دے سکتے۔اوراگر مستقل ضرورت کو نظرانداز کردیاجاتا۔توقرآن آئندہ زمانہ میں ایسا مفید نہ ہوتاجیسااب ہے۔پس فرمایا ہم نے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے اتارا۔جوں جوں ضرورت تھی اُتارتے گئے۔بعد والے مضمون کوپہلے۔پہلے کے مضمون کوبعد میں۔تاکہ وقتی ضرورت پو ری ہوجائے۔اوربعد میں حکم دےکر مستقل ضرورت کے مطابق اس کی ترتیب کردی۔جیسے دوسری جگہ فرماتا ہے۔اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ(القیامۃ :۱۸)کہ اس کی آخری ترتیب ابھی نہیں ہوئی جب یہ وحی کے متفرق ٹکڑے اُترچکیں گے۔توہم از سرنو ا س کتاب کوترتیب دیں گے۔اورپھر وہ اس ترتیب کے مطابق پڑ ھی جائے گی۔اس آیت میں اس شبہ کا جواب دیاگیا ہے کہ اس سورۃ میں بعض ایسے مضامین کا جواب ہے جوبعد میں نازل ہونے والی سورتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔قُلْ اٰمِنُوْا بِهٖۤ اَوْ لَا تُؤْمِنُوْا١ؕ اِنَّ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ تُو(انہیں )کہہ(کہ)تم اس پر ایمان لائو یانہ لائو۔جن لوگوں کو ا س (کے نزول)سے پہلے (الہامی صحیفوں یا فطرت قَبْلِهٖۤ اِذَا يُتْلٰى عَلَيْهِمْ يَخِرُّوْنَ صحیحہ کے ذریعہ سے)علم دیاجاچکا ہے جب ان کے سامنے (اسے )پڑھاجاتا ہے تووہ (اسے سن کر )کامل لِلْاَذْقَانِ سُجَّدًاۙ۰۰۱۰۸ فرمانبرداری اختیار کرتے ہو ئے ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں۔حلّ لُغَات۔الاذقان : اَلْاَذْقَانُ ذَقَنٌ کی جمع ہے۔اور ذَقَنٌ کے معنے ٹھوڑی کے ہیں۔ذَقَنَ کالفظ عربی محاورہ کے رُو سے تذلل پر دلالت کرنے کے لئے بولاجاتاہے۔کہتے ہیں۔مُثْقَلٌ اِسْتَعَانَ بِذَقَنِہِ۔یُضْرَبُ لِمَنْ اِسْتَعَان بِأَذَلَّ مِنْہُ۔کہ فلاں نے اپنے سے بھی ذلیل انسان سے مدد چاہی(اقرب)پس یخِرُّوْنَ لِلْاذْقَانِ میں انتہائی تذلل کااظہار کیاگیاہے کہ وہ ٹھوڑیوں کے بل گرجاتے ہیں۔تفسیر۔اُوْتُوا الْعِلْمَ مِنْ قَبْلِهٖۤ سے مراد اس جگہ مسلمان ہیں جن کوپہلے سے یعنی آیت کے نزول سے قبل علم