تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 440 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 440

زَیْدًا:اَھْلَکَہُ اِھْلَاکًادَائِمًا لَایَنْتَعِشُ بَعْدَہٗ۔اللہ نے اسے ایساتباہ کیا کہ پھر و ہ سنبھلنے کے قابل نہ رہا۔(اقرب) تفسیر۔موسیٰ نے کہا اے فرعون تیرادل جانتاہے۔کہ ان نشانات کوآسمان و زمین کے خدا نے بصیر ت کے طورپر نازل کیا ہے اورمجھے یقین ہے کہ توہلا ک کیاجائے گا۔یایہ کہ تونے جو مجھے مسحور کہہ کر بدنام اورکمزورکرنے کی تدبیر سوچی ہے۔خداتجھے اس میں کامیا ب نہ کرے گا بلکہ تواس اراد ہ میں خائب وخاسر ہوگا۔کیونکہ مثبورکے ایک معنے ناکام و نامراد کے بھی ہیں۔اس ذکر سے یہ بتانامقصود ہے کہ جس طرح تم نشان پر نشان دیکھتے ہومگرفریبی اوردھوکا باز کہتے جاتے ہو۔ایسا ہی اس سے پیشتر فرعون نے موسیٰ کو کہاتھا۔مگرجانتے ہواس کاانجام کیاہواتھا ؟ فَاَرَادَ اَنْ يَّسْتَفِزَّهُمْ۠ مِّنَ الْاَرْضِ فَاَغْرَقْنٰهُ وَ مَنْ مَّعَهٗ اس پراس نے ان (کی بنیادوں )کواس ملک سے اکھاڑ دینے کاارادہ کرلیا۔توہم نے اسے اورجواس کے ساتھ جَمِيْعًاۙ۰۰۱۰۴ تھے سب کو غرق کردیا۔تفسیر۔یعنی اس نے بھی چاہاتھا کہ ان کو ملک سے ذلیل کرکے نکال دے۔مگرخود غرق ہوگیا۔اہل کتاب نے کفار سے سازش کرکے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوقیصر کی فوج سے لڑانے کے لئے بھجوادیاتھا مگرخدا نے ان کی تدبیر کوناکام کیا۔اورآپ ؐ تبوک سے بغیر کسی نقصان کے باعزت واپس آئے(تاریخ الخمیس جلد۲ غزوۃ تبوک)۔وَّ قُلْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ لِبَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اسْكُنُوا الْاَرْضَ فَاِذَا جَآءَ اور اس کے(ڈوب مرنے کے )بعد بنی اسرائیل کو ہم نے کہہ دیا (کہ )تم اس (موعود)ملک میں (جاکر آرام سے ) وَعْدُ الْاٰخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْفًاؕ۰۰۱۰۵ رہو۔پھر جب پچھلی بار کاوعدہ (پوراہونے کا وقت )آئے گا۔توہم تم (سب )کو جمع کرکے لے آئیں گے حلّ لُغَات۔لَفِیْفًا۔لَفِیْفًایہ لَفَّ سے فعیل کے وز ن پر بمعنی مفعول ہے۔لَفَّہٗ کے معنے ہیں۔ضَمَّہٗ سمیٹا۔جَمَعَہٗ ا س کوجمع کیا۔لَفَّ الشَّیْءَ بِالشَّیْءِ :ضمَّہٗ اِلَیْہِ وَ وَصَلَہُ بِہٖ ایک چیز کودوسری سے ملادیا۔لَفَّ