تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 439

کاعذاب جن سے انسان کاخون ضائع یا خراب ہو۔جیسے نکسیروں کاپھوٹنا۔اورایک خاص مرض بھی اس وقت پیداہواتھا۔یعنی ایک قسم کے پھوڑے نکلتے تھے جن میں سے کثرت سے خون بہتاتھا۔جیساکہ فرماتا ہے فَاَرْسَلْنَا عَلَيْهِمُ الطُّوْفَانَ وَ الْجَرَادَ وَ الْقُمَّلَ وَ الضَّفَادِعَ وَ الدَّمَ اٰيٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ(الاعراف :۱۳۴)۔بائیبل میں ان نو عذابوں کی عجیب وغریب تشریح لکھی ہے۔جس کے ماننے اورجاننے کی ہمیں ضرورت نہیں۔ہمیں صرف اس امرسے تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کونو نشان عطافرمائے جووقفہ وقفہ کے بعدظاہر ہوئے جیسا کہ مفصّلات کے لفظ سے ظاہر ہے۔حضرت موسیٰ اوران کے نشانات کا ذکرکرکے یہود کوتوجہ دلائی ہے کہ جس طر ح فرعون کو نشان دکھائے گئے تھے یہود کوبھی نشان دکھائے جائیں گے۔مگرجس طرح فرعو ن نے فائدہ نہ اٹھا یاوہ بھی نہ اٹھائیں گے اورآخر معنوی طور پر غرق کئے جائیں گے۔اس آیت سے اس امر کی طرف بھی اشارہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہود پربھی نوقسم کے عذاب نازل ہوں گے یانو نشان دکھائے جائیں گے۔مگر مجھے اب تک تاریخ پر اس بارہ میں غور کرنے کاموقعہ نہیں ملا۔قَالَ لَقَدْ عَلِمْتَ مَاۤ اَنْزَلَ هٰؤُلَآءِ اِلَّا رَبُّ السَّمٰوٰتِ وَ اس نے کہا (کہ)تجھے یقیناً علم ہوچکا ہے کہ ان (نشانات)کوآسمانوں اورزمین کے رب نے ہی بصیر ت بخشنے الْاَرْضِ بَصَآىِٕرَ١ۚ وَ اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰفِرْعَوْنُ مَثْبُوْرًا۰۰۱۰۳ والابناکر اتاراہے۔اوراے فرعون میں تیری نسبت یقین رکھتا ہوں کہ توہلا ک ہوچکا ہے۔حلّ لُغَات۔بَصَائِر۔بَصَائِرُیہ بَصِیْرَۃٌ کی جمع ہے اَلْبَصِیْرَۃُ کے معنے ہیں۔اَلْعَقْلُ۔عقل۔اَلْفِطْنَۃُ۔ذہانت۔مَایُسْتَدَلُّ بِہ جس سے راہنمائی اوربصیرت حاصل ہو۔اَلْحُجَّۃُ۔دلیل۔اَلْعِبْرَۃُ۔عبرت۔اَلشَّاھِدُ۔گواہ(اقرب) مَثْبُورًامَثْبُورًایہ ثَبَرَسے اسم مفعول ہے ثَبَرَہُ کے معنے ہیں۔خَیَّبَہٗ۔اسے نامرادو ناکام کیا۔لَعَنَہٗ۔اس پر لعنت کی۔طَرَدَہُ۔اسے دھتکارا۔ثَبَرَہٗ عَنِ الْاَمْرِ :مَنَعَہٗ وَصَرَفَہٗ اسے روک دیا۔ہٹادیا۔ثَبَرَاللہُ