تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 441
الْکَتِیْبَتَیْنِ :خَلَطَ بَیْنَہُمَا فِی الْحَرْبِ۔جنگ میں دودوستوں کو آپس میں ملا دیا۔اَللَّفِیْفُ:اَلْمَجْمُوْعُ۔جمع کیا ہوا۔مَااجْتَمَعَ مِنَ النَّاسِ مِنْ قَبَائِلَ شَتّٰی۔مختلف قوموں کے آدمیوں کی جماعت (اقرب) تفسیر۔اُسْكُنُوا الْاَرْضَ۔اس سے مراد مصر کی سرزمین نہیں۔کیونکہ مصر میں تووہ نہیں آباد ہوئے اس سے مراد ملک کنعان ہے یعنے وہ ملک جس کاتمہیں وعدہ دیاگیاہے۔گویاالارض سے مراد معہود ذہنی ہے۔آنحضرت ؐ کی فضیلت موسیٰ پر وطن واپس ملنے کے ذریعہ سے رسول کریم صلعم کو موسیٰ علیہ السلام پر یہ فضیلت ہے کہ ان کو جو جگہ ملی وہ مصر کے قائم مقام تھی۔مصرنہیں ملا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو عین وہ جگہ ملی جوآ پ کاوطن تھا اورپھر دشمنوں کے ملک بھی ہاتھ آئے۔فَاِذَا جَآءَ وَعْدُ الْاٰخِرَةِ۔یعنی اب تم کنعان میں جائو۔لیکن ایک وقت کے بعد تم کو وہاں سے نکلنا پڑے گا پھر خدا تعالیٰ تم کو واپس لائے گا پھر تم نافرمانی کروگے اوردوسری دفعہ عذاب آئے گا اس کے بعد تم جلاوطن رہوگے یہاں تک کہ تمہاری مثیل قوم کے متعلق جو دوسری تباہی کی خبر ہے اس کا وقت آجائے اس وقت پھر تم کو مختلف ملکوں سے اکٹھاکرکے ارض مقدس میں واپس لایا جائے گا۔مسلمانوں کی مماثلت بنی اسرائیل سے ترقی اور تنزل کے لحاظ سے اس آیت سے ظاہر ہے کہ جس طرح بنی اسرائیل کے لئے دوتباہیوں کی خبر اس سورۃ کے شروع میں دی گئی تھی ویسی ہی خبر مسلمانوں کے لئے بھی دی گئی ہے کیونکہ مسلمانوں کو بنی اسرائیل کامثیل قرار دیا گیا ہے۔جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو موسیٰ ؑ کامثیل قراردیاگیا ہے۔اوراس کاثبوت یہ ہے کہ سورۃ کے شروع میں دووعدوں کا ذکر ہے اوردونوں عذاب کے وعدے ہیں۔ایک بخت نصرشاہ بابل کے ہاتھوںپوراہوا۔اوردوسراٹائیٹس شاہ روم کے ہاتھ سے پوراہوا۔(دیکھو رکوع اول) ان دونوں وعدوں میں بنی اسرائیل کے اکٹھاکرنے کا ذکر نہیں بلکہ ان کے پراگندہ ہونے کا ذکر ہے۔اس کے برخلاف اس آیت میں یہ ذکرہے کہ دوسرے وعدے کے وقت بنی اسرائیل کو پھر ارض مقدس میں لایاجائے گا۔اس سے معلوم ہواکہ یہ دوسراوعدہ کوئی اورہے اوراس دوسرے وعدے سے یہ بھی معلو م ہواکہ اس دوسرے وعدے کے ساتھ کوئی پہلاوعدہ بھی ہے۔اب ہم غورکرتے ہیں توان دو وعدوں کا ذکرقرآن کریم میں صرف اس طرح ملتاہے کہ محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم کومثیل موسیٰ قراردیاگیا ہے۔اورسورۃ فاتحہ میں مسلمانوں کے ایک حصہ کے متعلق یہ خبر دی ہے کہ وہ اہل کتاب کے نقش پر چلیں گے۔پس ان دونوں باتوںکوملا کر ہم یہ نتیجہ نکالتے ہیں۔کہ بنی اسرائیل کی طرح دوعذاب کے وعدے مسلمانوں کے لئے بھی کئے گئے ہیں۔اوراس جگہ وَعْدُالْاٰخِرَۃ سے مراد مسلمانوں کے دوسرے عذاب کاوعدہ ہے۔اوربتایایہ ہے کہ مسلمانوں پر جب یہ عذاب آئے گا۔کہ دوسری دفعہ ارض مقد س کچھ