تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 438
ہے۔غرض نام نہاد روحانی لوگ سالہا سال خدمت لے کر ایک اسم یانقش اسی لئے بتاتے ہیں کہ جانتے ہیں کہ ہمارے پاس جوکچھ ہے جلد ختم ہوجائے گا۔مگراللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علوم اول توختم نہیں ہوتے اور اگرہوجائیں تووہ اور پیداکردیتاہے۔اس لئے یہ جسمانی کسب الہا م کاقائم مقام کسی صورت میں نہیں ہوسکتا۔وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسٰى تِسْعَ اٰيٰتٍۭ بَيِّنٰتٍ فَسْـَٔلْ بَنِيْۤ اِسْرَآءِيْلَ اورہم نے موسیٰ کو یقیناً نوروشن نشان دیئے تھے۔چنانچہ توبنی اسرائیل سے (ان حالات کوپوچھ ) اِذْ جَآءَهُمْ فَقَالَ لَهٗ فِرْعَوْنُ اِنِّيْ لَاَظُنُّكَ يٰمُوْسٰى جب وہ ان (یعنی اہل مصر)کی طرف آیاتھا۔توفرعون نے اس سے کہا تھا (کہ )اے موسیٰ مَسْحُوْرًا۰۰۱۰۲ میں یقیناًتجھے فریب خوردہ سمجھتاہوں۔حلّ لُغَات۔مَسْحُورًا۔مَسْحُوْرًایہ سَحَرَسے اسم مفعو ل ہے۔سَحَرَہٗ:عَمِلَ لَہ السِّحْرُ وَخَدَعَہُ ٗ سَحَرَہُ کے معنے ہیں اس پرجادوکیا۔اسے فریب دیا۔سَحَرَہٗ عَنِ الْاَمْرِ :صَرَفَہُ۔اس کو کسی بات سے ہٹادیا۔سَحَرَ بِکَلَامِہِ وَالْحَاظِہِ:اِسْتَمَالَہُ وَسَلَبَ لُبَّہٗ۔اسے باتوں اورنظروں سے اپنی طرف مائل کرلیا۔اوراس کی عقل کولُبھالیا۔(اقرب) تفسیر۔بنی اسرائیل کے نو نشانوں کی تفصیل تِسْعَ اٰيٰتٍ۔قرآن مجید میں دوسری جگہ ان نشانوں کی تفصیل موجود ہے اوروہ یہ ہیں۔(۱)عصا۔جیسا کہ فرماتا ہے فَاَلْقٰى عَصَاهُ فَاِذَا هِيَ ثُعْبَانٌ مُّبِيْنٌ(الاعراف :۱۰۸) (۲)یدِبیضاء جیسے کہ فرماتا ہے وَّ نَزَعَ يَدَهٗ فَاِذَا هِيَ بَيْضَآءُ لِلنّٰظِرِيْنَ(الاعراف :۱۰۹)(۳)قحط جیساکہ فرماتا ہے وَ لَقَدْ اَخَذْنَاۤ اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِيْنَ (الاعراف :۱۳۱)(۴)پلوٹھوں کی موت۔جیسے فرماتا ہے وَ نَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُوْنَ(الاعراف :۱۳۱)اس جگہ ثمرات سے مراد ثمرئہ قلب یا ثمرئہ فؤاد ہے جس نام سے بیٹو ں کوپکاراجا تا ہے۔(۵)طوفان (۶)ٹڈی (۷)جوئیں یا کھٹمل کاعذاب(۸)مینڈکوں کاعذاب(۹)خون کاعذاب۔یعنی ایسی امراض