تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 432

قُلْ كَفٰى بِاللّٰهِ شَهِيْدًۢا بَيْنِيْ وَ بَيْنَكُمْ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ تو(انہیں )کہہ(کہ )میرے درمیان اور تمہارے درمیان گواہ کے طورپر اللہ ہی کافی ہے۔وہ اپنے بندوں کو بِعِبَادِهٖ خَبِيْرًۢا بَصِيْرًا۰۰۹۷ جاننے والا(اور)دیکھنے والا ہے۔تفسیر۔انسان کو حقیر ناقابل الہام سمجھنے والے معترضین کو جواب اس میں اس اعتراض کے دوسرے پہلوئوں کا جواب دیا ہے۔یعنی ان کوبھی جو انسان کوحقیر سمجھتے ہیں اورالہام کے ناقابل۔اوران کو بھی جو انسان کو کامل سمجھتے ہیں اورالہام سے مستغنی۔اورجواب یہ دیاہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کوخوب سمجھتا ہے کہ وہ کتنے کمزور ہیں یاکتنے طاقتورہیں۔پس جب اس نے مجھے رسول بناکربھیجا ہے توتمہارایہ توحق ہے کہ اس امر کی تحقیق کرو کہ میں نبی ہوں یا نہیں۔اوراس کے لئے میں خدا تعالیٰ کی عملی گواہی پیش کرتاہوں۔جب قول کے ساتھ اس کاعمل شامل ہے توتم میرے دعویٰ کو جھوٹاکس طرح کہہ سکتے ہو۔مگربہرحال تم یہ دواعتراض معقولیت کو چھوڑے بغیر نہیں کرسکتے۔کیونکہ اگریہ ثابت ہوجائے۔کہ مجھے خدا نے بھیجا ہے۔تومانناپڑے گا۔کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہ تو انسان اس قدرحقیر ہے کہ اسے وہ مکالمہ مخاطبہ کافخر نہیں دے سکتا۔اورنہ اس قدرکامل کہ اسے الٰہی کلام کی احتیاج ہی نہیں۔وَ مَنْ يَّهْدِ اللّٰهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ١ۚ وَ مَنْ يُّضْلِلْ فَلَنْ تَجِدَ اورجسے اللہ (تعالیٰ)ہدایت دے وہی ہدایت پرہوتاہے۔اورجنہیں وہ گمراہ کرے توتُواس کے (یعنی اللہ کے ) لَهُمْ اَوْلِيَآءَ ۱؎مِنْ دُوْنِهٖ١ؕ وَ نَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ عَلٰى مقابل پر اس کاکوئی بھی مددگار نہیں پائے گا۔اورقیامت کے دن ہم انہیں ان کے مقاصد کے مطابق اندھے اور وُجُوْهِهِمْ عُمْيًا وَّ بُكْمًا وَّ صُمًّا١ؕ مَاْوٰىهُمْ جَهَنَّمُ١ؕ كُلَّمَا