تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 431 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 431

تیار ہوجائیں گے۔لیکن قوت قدسیہ اورقوت عملیہ کاعملی نمونہ دکھانے والا انسان جوجھوٹے فخر اورجھوٹے دعووں سے بچتاہو۔ان کے نزدیک ہرگز قابل اعتنا نہ ہوگا۔کیونکہ ان کی طبائع عجوبہ پسندی کاشکار ہوتی ہیں۔ایسے لوگ بعض دفعہ بعض پہلے نبیوں کو بھی مانتے ہیں لیکن نئے نبی کے آنے پر ان کی طبیعت کے اس نقص کاظہور بتادیتا ہے کہ پہلے نبی پر بھی ان کاایمان محض رسمی اورورثہ کاایمان تھا۔قُلْ لَّوْ كَانَ فِي الْاَرْضِ مَلٰٓىِٕكَةٌ يَّمْشُوْنَ مُطْمَىِٕنِّيْنَ۠ تو(انہیں )کہہ (کہ )اگرزمین پرفرشتے (بستے)ہوتے جو زمین پر اطمینان سے چلتے پھر تے تو(اس صورت میں) لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِمْ مِّنَ السَّمَآءِ مَلَكًا رَّسُوْلًا۰۰۹۶ ہم ضروران پر آسمان سے کسی فرشتہ کو (ہی )رسول بناکراتارتے۔تفسیر۔ملائکہ سے مراد فرشتہ خصلت انسان ہیں اس آیت سے معلوم ہوتاہے کہ ملائکہ سے مراد فرشتہ خصلت انسان ہیں۔ورنہ فرشتے پردوسرافرشتہ آنے کی کیاضرورت ہے۔اس آیت میں اس قسم کے لوگوں کے خیال کا جواب دیا ہے جویہ سمجھتے ہیں کہ و ہ بڑے لوگ ہیں۔اوران کوبراہ راست الہام ہوناچاہیے تھا۔فرماتا ہے کہ فرشتہ فرشتہ خصلت پر اترتاہے غیر جنس پر نہیں۔تم فرشتے بن جاتے توتم پر بھی فرشتے اترتے پرتم تو شیطان بن گئے ہو تم پر فرشتے کس طرح اتریں۔دوسرے ان لوگوں کو جواب دیا ہے جویہ سمجھتے ہیں۔کہ بشر سے بڑی طاقتوں والے وجود کی ضرورت تھی۔بشرکام نہیں دے سکتا۔انہیں یہ بتایا ہے۔کہ ہرجنس کے لوگوںکو ان کا ہم جنس ہی نجات دے سکتاہے۔کیونکہ نمونہ وہی ہو سکتا ہے جوان میں سے ہو۔پس بشر کے سوادوسری جنس بطوررسول انسانوں میں نہیں آسکتی۔کیونکہ وہ ان کے لئے نمونہ نہیں بن سکتی۔ا ن معنوںکے روسے رسول کے معنی صرف وحی لانے والے کے نہیں ہوں گے بلکہ رسالت کی وہ سب شرائط جن کے ساتھ بشررسول آتے ہیں مراد لی جائیں گی۔