تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 433
گونگے اوربہرے ہونے کی حالت میں جمع کریں گے۔ان کاٹھکانا جہنم ہوگا۔جب بھی وہ (ذرا) خَبَتْ زِدْنٰهُمْ سَعِيْرًا۰۰۹۸ ٹھنڈی ہوگی توہم ان پرآگ (کاعذاب اوربھی) بڑھادیںگے۔۱؎ اولیآء۔اَوْلِیَآءُ جمع وَلِیٌّ کی ہے جس کے ایک معنی مددگار کے ہیں لیکن ترجمہ میں جمع کی جگہ مفرد ترجمہ کیاگیاہے۔کیونکہ اردومیں ایسے موقعہ پر مفرد ہی بولاجاتا ہے۔حلّ لُغَات۔وجوھھم۔وُجُوْہٌ وجْہٌ کی جمع ہے۔اور وَجْہٌ کے معنے ہیں۔اَلْقَصْدُ وَالنِّیَّۃُ۔مقصد۔اَلْمَرْضَاۃُ۔پسندیدہ طریق۔(اقرب) خَبَتْ۔خَبَتِ النَّارُ وَالْحَرْبُ وَالْحِدَّۃُ کے معنے ہیں سَکَنَتْ وخَمَدَتْ وَطَفِئَتْ۔آگ۔جنگ یاتیزی دھیمی یاٹھنڈی پڑ گئی۔کمزورہوگئی۔بجھ گئی (اقرب) سعیرا اَلسَّعِیْرُ کے معنے ہیں اَلنَّارُ وَلَھَبُھَا۔آگ۔شعلے۔(اقرب) تفسیر۔انجام ہی فیصلہ کن ہوتا ہے چونکہ پچھلے سوالوں اورجوابوں سے کفار کی کج بحثی کاثبوت ملتاتھا۔اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو تسلی دلائی کہ ان باتوںسے گھبرانانہیں چاہیے۔ہدایت اورگمراہی کافیصلہ اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔جومستحق ہدایت ہو اسے ہدایت مل جاتی ہے خواہ درمیا ن میں کتنی روکیں پیداہو ں۔اور جو مستحق ہدایت نہ ہو و ہ گمراہ ہی رہتاہے یاآخر گمراہ ہو جاتا ہے خواہ بظاہر اس کے لئے سہولتیں میسر ہوں پس ان ظاہری حالات سے مایوس نہ ہوناچاہیے۔بعض دفعہ شدیدمخالف اوربظاہر کج بحث لوگ آخر میں ایمان لے آتے ہیں۔اوراخلاص کانہایت اعلیٰ نمونہ دکھاتے ہیں۔اصل توانجام کودیکھناچاہیے۔جس کاانجام خراب ہو خطرہ تو ا س کے لئے ہے۔خَبَتِ النَّارُ وَالْحَرْبُ وَالْحِدَّۃُ سَکَنَتْ وَخَمَدَتْ وَطَفِئَتْ۔یعنی آگ، لڑائی اورتیزی کے متعلق خَبَتْ آتاہے جس کے معنے ہیں جوش جاتارہا۔کم ہوگیا۔بالکل ٹھنڈاپڑ گیا۔قیامت کے دن مونہوں کے بل گھسیٹے جانے سے مراد عَلٰى وُجُوْهِهِمْ کے متعلق قرآن کریم میں دوسری جگہ آتاہے يَوْمَ يُسْحَبُوْنَ فِي النَّارِ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ (القمر:۴۹) جس دن وہ مونہوں کے بل گھسیٹ کرآگ میں ڈالے