تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 39
کرسکتے۔پھر تم کس طرح سمجھ سکتے ہوکہ تمہاری اخلاقی قوتوں کے فرق اوراختلاف کے باوجود کوئی انسانی تعلیم سب انسانوں کے لئے یکساںمفید ہوسکتی ہے۔یہ ضرورت بھی اللہ تعالیٰ ہی پوری کرسکتاتھا۔جو انسان کی طبیعت اور اس کے اختلافات کا پیداکرنے والا ہے۔اوراسے جانتاہے ورنہ جو انسان قانو ن بنائےگااپنے ذوق اوراپنے میلان کے مطابق قانو ن بنالے گا۔اوراگر جماعت بنائے گی تواس جماعت کے میلانوں تک وہ تعلیم محدود رہے گی۔صرف اللہ ہی کی دی ہوئی تعلیم ہوگی جس میں ہر طبیعت کے میلان اورہر فطرت کے تقاضے کا خیا ل رکھا گیاہوگا۔اورہرمخفی ضرورت کوپوراکیاگیاہوگا۔پس الہام کا آنا انسان کی روحانی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ورنہ اول تو انسان اپنی عقل سے روحانی ضرورتوںکوپوراکرہی نہ سکے گا۔اوراگر ایک حد تک ضرورت پوراکرنے کاسامان کرے گابھی تووہ محدود ہوگا۔اوروہ نہ توکسی انسان کی سب ضرورتوںکو پوراکرسکے گااورنہ تما م انسانوں کی بعض ضرورتوںکو پوراکرسکے گا۔اس آیت کے آخر میں فرمایاکہ اس میں ان لوگوں کے لئے نشان ہیں جو نصیحت حاصل کرتے ہیں یہ لفظ اس جگہ اس لئے استعمال فرمایا کہ مختلف الوان کی ضرورت پوراکرنے کاسوال خالص اخلاقی سوال ہو جاتا ہے اورا س کا براہ راست نصیحت سے تعلق ہے۔فکر ،عقل اور تذکر کو مضمون کے ساتھ مناسبت یہ بھی ہوسکتا ہے کہ فکر، عقل اورتذکر کو ہر آیت کے مضمون کی مناسبت سے نہیں بلکہ سارے مضمون کی مناسبت سے رکھا گیا ہے اوردرحقیقت تینوں لفظوں کاتعلق سارے ہی مضمون سے ہے صرف ان کو ان کے درجہ کے مطابق پھیلاکر سارے مضمون میں رکھ دیاگیاہے۔پہلے فکر کو رکھا ہے۔کیونکہ یہ پہلا ذریعہ اصلاح کا ہے۔کیونکہ جب انسان نیک یا بد تغیر کی طرف جھکنے لگتا ہے۔توپہلے فکر پیدا ہوتاہے پھر جب فکر کامل ہوجائے توعقل پیداہوتی ہے۔یعنی انسان بدی سے رکنے لگتاہے۔اوراس کے عمل میں اصلا ح شروع ہوتی ہے۔جب یہ عملی اصلاح ہوجاتی ہے توتیسرادرجہ تذکر کاشروع ہوتاہے یعنی نیکی راسخ ہوجاتی ہے اورہرقدم پر انسان کو اس کافرض یاد آتا رہتا ہے۔اورعقل کے مقام پر جس طرح اسے اپنے نفس کو روکنا پڑتا تھا۔اب اس کی ضرورت نہیں رہتی بلکہ نفس خود ہی نیکی کےاصو ل کو یاد رکھتا ہے اورنیکی اس کی طبیعت ثانیہ ہوجاتی ہے۔