تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 38
ہے۔گویا ایک طرف شدید اتحاد ہے تودوسری طرف شدید اختلاف۔یہی حال نباتات کا ہے سب آموں کے درخت آموں کے ہی درخت ہیں مگر ہردرخت دوسرے سے الگ پہچاناجاتا ہے اورایسا ہی حا ل ان کے پھلوں کاہے۔غرض دنیا میں ہرجنس کے افراد دوسرے افراد سے مشابہت رکھتے ہیں مگر پھر ان سے مختلف بھی ہوتے ہیںاگر رنگوں کایہ فرق نہ ہوتا تو ایک کودوسر ے سے پہچاننا ناممکن ہوجاتا۔اب تو ہر ماں باپ اپنے بچے کو ہربیٹااپنے ماں باپ کو ہر خاوند بیوی کو بیوی خاوند کو بھائی بھائی کو پہچانتا ہے۔اگرامتیازی نشان نہ ہوتے توپہچانناکس قدر مشکل ہوتا ہے۔مگراللہ تعالیٰ نے کس قد روسیع فرق ہر شے میں رکھا ہے۔سفید رنگ ہے تواس کے اس قدرمدارج ہیں کہ انسان ان کے نام نہیں رکھ سکتا۔سیاہ رنگ ہے توا س کے اس قدرمدارج ہیں کہ ان کی گنتی نہیں کی جاسکتی۔صرف آنکھ اس فرق کو پہچانتی ہے اورا س فرق کی وجہ سے فوراً دوچیزوں میں امتیاز کرلیتی ہے۔مگرزبان اس فرق کو اکثر نہیںبتاسکتی۔اللہ تعالیٰ اسی امتیاز کے روحانی پہلو کی طرف اشارہ فرماتا ہے کہ دیکھو جس طرح اشیاء کے مادی رنگ مختلف ہیں اسی طرح ان کے باطنی رنگ بھی مختلف ہیں۔پھر جس طرح انسان کے جسم کی ضروریات مختلف ہیں اس کے مقابل پر مختلف رنگ کی اشیا ء بھی اللہ تعالیٰ نے پیداکی ہیں۔نہ انسان کے جسم کی ضرور توںکو کلی طور پر کوئی سمجھ سکتاہے نہ ان کے پوراکرنے کے سامان کوئی پیداکرسکتاہے۔کیونکہ ہرانسان کاذوق الگ ہوتا ہے اوراس کے جسم کے تقاضے مختلف ہوتے ہیں کسی کو میٹھا مفید ہے کسی کو کھٹا۔کسی کو کدوپسند ہے کسی کو بینگن۔ایک کیلے پر جان دیتا ہے دوسرا اس کے چکھنے کی برداشت نہیں رکھتا۔غرض انسانی طبائع ایسے مختلف انواع کی ہیں کہ ان کا شمار نہیں کیاجاسکتا۔کیابلحاظ قوت ذائقہ کے اور کیا بلحاظ مختلف تاثیرات سے مناسبت رکھنے کے ان میں شدید اختلاف پایا جاتا ہے۔اورہر اک کی ضرورت اللہ تعالیٰ نے بیرونی اشیاء میں پوری کرچھوڑی ہے۔انسان تو ان اختلافات کی اقسام گن تک نہیں سکتا۔وہ ان کے مطالبات کو پوراکرنے کی طاقت کہا ں رکھ سکتا تھا۔اللہ تعالیٰ ہی ہے جس نے مختلف رنگوں اورمختلف ذوقوں اورمختلف مزاجوں کے لوگوں کو پیدا کیا۔اورپھر ان کی ضرورتوں کوپوراکرنے کے لئے ویسی ہی مختلف الانواع چیزیں بھی پیداکردیں۔لون کے معنے مختلف انواع کے ان معنوں کے روسے لون کے معنے نہ صرف رنگ کے لئے جائیں گے بلکہ نوع کے بھی۔اورجیساکہ حل لغات میں بتایا گیا ہے۔لون کے معنے نوع کے بھی ہوتے ہیں۔اس مضمون سے اللہ تعالیٰ نے اس طر ف اشارہ فرمایا ہے کہ دیکھو دنیا میں مختلف رنگوں اورمختلف انواع کی چیزیں اس نے پیداکی ہیں تاکہ تمہاری مختلف ضرورتوں اور تمہارےمختلف میلانوںکوپوراکرے۔تم خود یہ کام نہیں