تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 40
وَ هُوَ الَّذِيْ سَخَّرَ الْبَحْرَ لِتَاْكُلُوْا مِنْهُ لَحْمًا طَرِيًّا وَّ اوروہ ،وہ(پاک)ذات ہے جس نے سمند ر کو(بھی تمہاری )بے اجر ت کی خدمت پرلگارکھا ہے تاکہ تم اس میں سے تَسْتَخْرِجُوْا مِنْهُ حِلْيَةً تَلْبَسُوْنَهَا١ۚ وَ تَرَى الْفُلْكَ (مچھلی وغیرہ کا)تازہ گوشت کھائو۔اوراس سے زیور(کاسامان )نکالو جسے تم (لوگ )پہنتے ہو۔اور(اے مخاطب) مَوَاخِرَ فِيْهِ وَ لِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِهٖ وَ لَعَلَّكُمْ تو اس میں کشتیوںکو پانی پھاڑتے (اورزورسے چلتے)ہوئے دیکھتاہے (جواس لئے چلتی ہیں کہ تم سمندری سفر طے تَشْكُرُوْنَ۰۰۱۵ کرو)اورتاکہ تم اس کے بعض اورفضل (بھی )تلاش کرو اورتاکہ تم (اس کا)شکر اداکرو۔حلّ لُغَات۔اَلطَّریُّ۔طَرِیَ الْغُصْنُ واللَّحْمُ وَالثَّوْبُ (یَطْرٰی وَطَرُ وَیَطْرُ وْ، طَرَاوَۃً وطَرَاءَۃً وَطَرَاءً)کانَ طَرِیًّا۔ہرچیز جو نئی ہو اوربناوٹ کے لحاظ سے تروتازہ ہو اُسے طَرِیٌّ کہتے ہیں۔جیسے نیا کپڑا۔گوشت جو تازہ ہو۔اسی طرح درخت کی شاخ جو تازہ ہو (اقرب) پس لَحْمٌ طَرِیٌّ کے معنے ہوں گے تازہ گوشت۔اَلْحِلیَۃُ۔مَا یُزَیَّنُ بِہٖ مِنْ مَصُوْغِ الْمَعْدِنِیَّاتِ اَوِ الْحِجَارَۃِ الْکَرِیْمَۃِ۔معدنیات اورقیمتی پتھروں سے بنے ہوئے زیورات جوزینت کے لئے پہنے جاتے ہیں۔اس کی جمع حُلیٌّ آتی ہے۔(اقرب) الفُلْکُ۔اَلسَّفِیْنَۃُ۔کشتی۔یُذَکَّرُوَیُؤَنَّثُ یہ لفظ مذکر اورمؤنث دونوں طر ح استعمال ہوتاہے۔(اقرب) مَوَاخِر۔مَوَاخِرُ مَاخِرَۃٌٌّ کی جمع ہے۔اورمَاخِرَۃٌ مَـخَرَ سے اسم فاعل کاصیغہ ہے مَـخَرَتِ السَّفِیْنَۃُ کے معنے ہیں جَرَتْ تَشُقُّ الْمَاءَ مَعَ صَوْتٍ۔کشتی پانی کو چیرتی ہوئی چلی گئی اور اس کی آواز نکلتی تھی۔وَقِیْلَ اِسْتَقْبَلَتِ الرِّیْحَ فِیْ جَرْیَتِھَا۔اوربعض نے یہ معنے کئے ہیں کہ کشتی ہواکے رخ پر چلی۔مَـخرَ السَّابِحُ کے معنے ہیں شَقَّ الْمَاءَ بِیَدَیْہِ تَیرنے والا اپنے دونوں ہاتھو ں سے پانی کو چیرتاہواتَیرا۔اَلْفُلْکُ الْمَوَاخِرُالَّتِیْ تَشُقُّ الْمَاءَ مَعَ صَوْتٍ۔وہ کشتیاں جو پانی کو ا س طور پر چیرتی ہوئی چلتی ہیں کہ اُن سے آواز پیداہوتی ہے۔(اقرب) تفسیر۔خشکی کی چیزوں کے مقابل تری کی چیزوں کا ذکر پہلی آیات میں خشکی کی چیزوں کا