تفسیر کبیر (جلد ۶)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 37 of 720

تفسیر کبیر (جلد ۶) — Page 37

امر تجربہ شدہ ہے کہ ایک ہی قسم کی اشیا ء رنگ کے اختلاف کی وجہ سے مختلف تاثیرات ظاہر کرتی ہیں۔مثلاً توت ہے۔اس میں سے سفید گلے میں خراش پیداکرتاہے اورسیاہ توت خنا ق جیسی مرض میں مفید ہوتاہے۔صندل سفید اورسرخ تاثیرات کے لحاظ سے ایک دوسرے سے بعض امور میں قوی یاضعیف ہو تے ہیں (خزائن الادویہ مصنفہ حکیم محمد نجم الغنی رامپوری مطبوعہ خادم التعلیم برقی پریس پیسہ اخبار لاہور ۱۹۲۶ء جلد ۵ ص ۹۲)۔یہی حال اَورسینکڑوں اشیاء کا ہے کہ چیز ایک ہی ہوتی ہے۔لیکن رنگ کے تغیر سے اس کے فوائد میں تغیر پیداہوجاتا ہے۔بہت سی چیزوں کے فوائد معلوم ہوگئے ہیں اوربہت سی کے ابھی مخفی ہیں۔مگراس حد تک اس علم کا انکشاف ہوچکا ہے کہ رنگوں کی تاثیرات کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔طب میں مختلف رنگوں سےبیماریوں کا علاج موجودہ طب میں تو مختلف رنگوں سے بعض شدید بیماریوں کاعلاج کیا جاتا ہے۔اگر زرد رنگ کی اکری فلیوین بیرونی زخموں کے لئے مفید ہے تو مرکیوروکروم اندرونی زخموں کے لئے مفید ہے۔اسی طرح اور کئی رنگ ہیں۔میں نے ایک دفعہ اکری فلیوین کودیکھ کرخیا ل کیا کہ معلوم ہوتا ہے زرد رنگ کی تاثیر زخموں کے لئے اچھی ہوتی ہے۔اوراسی وجہ سے پرانے زمانہ میں زخموں کے علاج کے لئے ہلدی کو بکثرت استعمال کیا جاتا تھا۔اس خیال سے میںنے ہلدی کارنگ نکال کر زخموں کے لئے ایک ڈاکٹرکودیا۔انہوںنے تجربہ کرکے بتایا کہ گواکری فلیوین جیسی تاثیر تونہیں۔مگراس کے ساتھ ملتی ہوئی تاثیر آپ کی دوامیں ضرور تھی۔اس فرق کی وجہ میں نے یہ سمجھی کہ اس حد تک میںاس کا جوہر نہیں نکال سکاجس حد تک کہ جرمنوں نے نکال لیاہے ورنہ بات وہی ہے۔غرض رنگوں کی تاثیرات ایک ثابت شدہ حقیقت ہیں۔گواب تک یہ علم مکمل نہیں ہوا۔قرآن کریم اس کی طرف اشارہ فرماتا ہے اورتوجہ دلاتا ہے کہ اجرام تو الگ رہے ان کے رنگ تک تمہارے فائدہ میں لگے ہوئے ہیں۔اورکیسی کیسی باریک راہوںسے اللہ تعالیٰ نے تمہاری جسمانی ترقی کے سامان پیداکئے ہیں۔مگر تم اب بھی نہیں سمجھتے کہ روحانی ترقی کے لئے بھی ویسے ہی وسیع بلکہ ان سے بھی زیادہ وسیع سامان پیداکرنے کی ضرورت ہے۔رنگوں کے ذریعہ سے ایک ہی جنس کی دو چیزوں میں امتیاز علاوہ ازیں اس رنگو ں کے تغیر سے اس طرف بھی اشارہ کیا کہ ایک ہی چیزکے کئی رنگ ہوتے ہیں۔اوراگرایک طرح اسے اپنی قسم کی دوسری چیزوں سے اتحاد ہوتا ہے تودوسری طرح ان سے وہ مختلف بھی ہوتی ہے سب انسان انسان ہیں مگر کوئی دوآدمی ظاہری شکل یاباطنی قوتوں میں یکساں نہیں ملتے۔سب اونٹ اونٹ ہیں مگر پھر ہر اونٹ کی شکل اورعقل دوسرے اونٹ سے مختلف ہوتی